معمولی مالی فائدے کے لیے بچوں کی فروخت قابلِ افسوس امر ہے، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

بچوں کی فروخت قابلِ افسوس امر ہے، چیف جسٹس

لاہور : سپريم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے پنجاب میں بچوں کے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر وجوہات جاننے کے لیے بنائی گئی کمیٹی سے مزید تجاویز طلب کرتے ہوئے پولیس کو ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل بنچ نے پنجاب میں بچوں کے اغواء ہونے کی بڑھتی ہوئی واردتوں پر ازخود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی۔

اس موقع پر اغواء شدہ بچوں کی تفصیلات جاننے کے ليے عاصمہ جہانگیر کی سربراہی ميں بنائی گئی کميٹی نے اپنی رپورٹ جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتايا کہ ملک میں بچوں سے مشقت لینے کی روک تھام کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں بچوں سے مشقت لینے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں سے مشقت لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی سے ہی اس لعنت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس سے بچوں کے اغوا کے حوالے سے خوف کم ہوا ہے تا ہم افسوسناک بات یہ ہے کہ والدین خود اپنے بچے فروخت کر دیتے ہیں حالانکہ بچے فروخت کرنے کی چیز نہیں ہیں۔

اس موقع پر جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بچوں کی فروخت کا سلسلہ پسماندہ علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں والدین معمولی مالی فائدے کے عوض اپنے بچوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔

سماعت کے دوران ایک سوال پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کے اعضاء نکالنے کے حوالے سے خبریں غلط ہیں اور ایسا واقعہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

پولیس کی جانب سے عدالت کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ دوگمشدہ بچیوں کو بازیاب کروا کران والد کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے بچیوں کے ماں اور باپ کو طلب کرلیا۔

اس موقع پر گم شدہ بچوں کے والدین نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کی تلاش میں روز مرتے اور روز جیتے ہیں مگر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں جب کہ سینئر سول جج یوسف نے اپنے بیٹے کو اغواء کرنے والے ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھی دائر کی۔

عدالت نے پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے اغواء سے متعلق حکومت اور سول سوسائٹی سے مزید تجاویز طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں