The news is by your side.

Advertisement

بچوں کی فحش فلمیں: سب سے زیادہ مقدمات وسطی پنجاب میں درج ہوئے

لاہور: ایف آئی اے کے مطابق پاکستان میں‌ بچوں کی فحش فلموں میں وسطی پنجاب سب سے آگے ہے، جہاں بچوں کی عریاں تصاویر اور ویڈیوزکی انٹرنیٹ پرفروخت کے بیش تر کیسز سامنے آئے۔

ان خیالات کا اظہار ایف آئی اے حکام نے برطانوی خبر رساں‌ ایجینسی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. ایف آئی اے کے مطابق بچوں کی فحش فلموں سے متعلق درجن سے زیادہ مقدمات وسطی پنجاب میں درج کیے گئے.

تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس کے بعد پاکستان میں‌ بچوں‌ کی فحش فلمیں‌ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کے افسوس ناک کیسز تیزی سے سامنے آ رہے ہیں. وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اعدادوشمار کے تحت سب سے زیادہ کیسز وسطی پنجاب میں‌سامنے آئے. گرفتارشدگان کی اکثریت کا تعلق بھی پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔

سندھ میں بچوں سے زیادتی کے 45 واقعات: سرکاری رپورٹ

یاد رہے کہ قصورکے ہولناک واقعات کے باعث ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے بچوں کی فحش فلمیں‌بنانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک دو رکنی ٹیم تشکیل دی تھی، جو ان واقعات کے سدباب کے لیے اقدامات کرے گی۔

ٹیم کے سربراہ عمران حیدر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فحش ویڈیوز اورانھیں اپ لوڈ کرنے کے واقعات کے سدِباب کے لئے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کے علاوہ مقامی افراد سے بھی مدد لی جارہی ہے. اس حوالے سے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جو ان الزام میں گرفتار کئے گئے افراد سے تفتیش کرے گا۔

آئی جی پنجاب کی زینب قتل کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع ہے، جب اس معاملے پر باقاعدہ ٹیم بنائی گئی، اس سے پہلے سائبر کرائم کے حکام ہی انٹرنیٹ سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ایف آئی اے نے جھنگ سے تیمور نامی ایک شخص کو بچوں کی فحش ویڈیوز بنا کر غیرملکی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں