The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں بچوں سے زیادتی، ویڈیوزبنانے والا ایک اورگروہ سامنے آگیا

فیصل آباد: پنجاب میں بچوں سےزیادتی کرنے ،تصاویراورنازیباویڈیوبنانےوالے ایک اور گروہ کاانکشاف ہوا ہے، ملزمان اہل خانہ کو نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق فیصل آباد کے علاقے منصورآباد میں بچے کو نشہ آور مشروب پلا کر مبینہ طو ر پر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ، ملزم نے بچے کی تصاویر بھی وائرل کردیں۔

اہل خانہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے تصویریں وائرل کرتے ہوئے نازیبا ویڈیو بھی وائرل کردے گا۔ اہل خانہ کا موقف ہے کہ ملزم بچے کو ملازمت دلانے کے بہانے گھر لے گیا تھا جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔

اہل خانہ نے ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع کرلیا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کب تک ان افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں وفاقی محتسب نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ صرف قصور میں دس برس میں دو سو بہترکیسز ہوئے، لیکن چند ملزمان کو سزا ہوئی، زیادتی کرنے والوں میں بااثر سیاستدان،دولت مند اورپڑھے لکھے افراد شامل ہیں۔

وفاقی محتسب کا کہنا ہے کہ عام طور پر بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، 2018 میں بچوں سے زیادتی کے 250 سے زائدکیس درج ہوئے جبکہ 2017 میں زیادتی کے 4 ہزار 139 واقعات رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ پنجاب میں 1 ہزار 89کیس رپورٹ ہوئے۔

یاد رہے جنوری 2018 میںقصور کی ننھی زینب کے بہیمانہ قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ننھی زینب کو ٹیوشن پڑھنے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اغوا کیا گیا تھا جس کے دو روز بعد اس کی لاش ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی تھی۔

بعد ازاں اکتوبر 2018 میں قصور کی زینب اور دیگر معصوم بچیوں کے قاتل عمران علی کو لکھپت جیل کے پھانسی دے دی گئی تھی۔

گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں کمسن بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنانے والے چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا ۔سرگودھا کے علاقے لک موڑکے رہائشی نے کمپیوٹر کی دکان پر فحش ویڈیوزکاپی ہونے کی اطلاع پولیس کودی تھی لیکن مقامی پولیس تھانہ جھال چکیاں نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا ، جس پر شہری نے کچھ ویڈیوز ڈی پی اوسرگودھا کو بھجوائیں تھیں ۔ جس کےبعد کارروائی کا آغاز ہوا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں