The news is by your side.

Advertisement

چین نے تیس کروڑ امریکی لال بیگ کیوں پال لیے؟

چین کے کچرا ٹھکانے لگانے والے مرکز کی طرف سے حیرت انگیز انکشافات

بیجنگ: ساری دنیا میں لال بیگ مارنے کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے لیکن چین نے اس کے برعکس تیس کروڑ اچھی نسل کے امریکی لال بیگ پال لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چین کے کچرا ٹھکانے لگانے والے مرکز نے تحقیقات کے بعد یہ انکشاف کیا ہے کہ کچرا ٹھکانے لگانے کا سب سے ماحول دوست طریقہ یہ ہے کہ اچھی نسل کے بڑے لال بیگ پال کر ان کا استعمال کیا جائے۔

لال بیگ ہمیشہ ایک تباہ کار کیڑا سمجھا جاتا ہے کیوں کہ یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور مختلف امراض کے جراثیم ساتھ لیے پھرتا ہے لیکن ایسا کیا ہوگیا ہے کہ مشرقی چین کے صوبے شین ڈونگ کے ایک ویسٹ ڈسپوزل سینٹر نے اسے قیمتی اثاثہ مان لیا ہے۔

دنیا میں ہر جگہ باورچی خانہ ایک ایسا مقام ہے جو لال بیگ کے نشانے پر رہتا ہے، ویسٹ ڈسپوزل سینٹر نے اسی خیال سے باورچی خانے کے کچرے کے ساتھ ماحول کو آلودہ کیے بغیر نمٹنے کا یہ دل چسپ طریقہ ڈھونڈا۔

ویسٹ ڈسپوزل سینٹر کے ڈائریکٹر لی ین رونگ نے چینی میڈیا کو بتایا کہ وہ گزشتہ سات برس سے یہ لال بیگ پال رہا ہے، اور دریافت کیا ہے کہ یہ کچلے یا پسے ہوئے کچرے کو کھا سکتا ہے اور زہریلے مادوں کو ہضم کرسکتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ لال بیگ کچرا کھانے اور ہضم کرنے کے بعد اسے زنک اور فولاد جیسے غیر زہریلے عناصر بھی خارج کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   رنگ گورا کرنے کی کریمز میں لال بیگوں کا استعمال

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ اس طریقے کا کچرا ٹھکانے لگانے کے روایتی طریقوں جیسا کہ زمین میں دبانا یا جلانے وغیرہ سے موازنہ کریں تو اس سلسلے میں لال بیگوں کا استعمال کہیں زیادہ ماحول دوست اور کم لاگت کا ہوسکتا ہے۔

ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ویسٹ سینٹر میں پالے گئے امریکی لال بیگ چین کے عام لال بیگوں سے بہت مختلف ہیں۔ یہ جسامت میں بڑے ہیں اور سڑی ہوئی غذا کھانے میں خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک لال بیگ اپنے وزن کے پانچ فیصد کے برابر کچرا کھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چناں چہ اب جب مذکورہ سینٹر کے پاس تیس کروڑ لال بیگ جمع ہوچکے ہیں تو ان کا کُل وزن تین سو ٹن ہے اور یہ روزانہ پندرہ ٹن کچرا ٹھکانے لگا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کی سب سے پرانی مکڑی 43 برس کی عمر میں چل بسی

لی کا کہنا تھا کہ ان لال بیگوں کے بدن میں مفید اجزا شامل ہیں جنھیں پاؤڈر میں بدلنے کے بعد ادویات میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور کچھ حد تک یہ پاؤڈر اینٹی بایوٹکس کی جگہ بھی لے سکتا ہے، اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی اکیڈمی آف سائنس اور چائنیز ریسرچ اکیڈمی آف انوائرنمنٹل سائنس کے ماہرین نے بھی اس منصوبے کے کارآمد ہونے کی تصدیق کی ہے اور اسے قدرتی طریقہ قرار دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں