مشرقِ وسطیٰ میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور پاکستان -
The news is by your side.

Advertisement

مشرقِ وسطیٰ میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور پاکستان

براعظم ایشیا میں تیل کی دولت سے مالا مال اوریورپ کی جانب جانے والے راستوں کا مرکز ہونے کے سبب مشرقِ وسطیٰ چین اور امریکا دونوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے اور یہی اعزاز پاکستان کو بھی حاصل ہے کہ چین جو کہ دنیا میں معاشی اور عسکری طاقت کے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، اس کا روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ پورے طور پر پاکستان پر منحصر ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ممالک میں دو دہائیوں سے جاری جنگوں کے سبب جہاں ان ممالک کی سیاسی صورتِ حال اضطراب کا شکار ہے جس کی مثال ہم کچھ سال قبل ’عرب بہار‘ کی شکل میں دیکھ چکے ہیں، وہیں ان حالات نے مڈل ایسٹ کو معاشی طور پر بھی نقصان پہنچایا ہے جس کے سبب وہ اپنی تاریخ میں پہلی بار اپنی معیشت کو تیل سے ہٹ کر کچھ دوسرے خطوط پر بھی استوار کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مشغول ہیں ۔ ان کی انہی کوششوں کے سبب چین کےلیے یہ سب سے بہترین موقع ہے کہ وہ بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، ایران اورمصر میں اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا معاشی اثر و رسوخ بڑھا کر اس خطے پر پچاس سال سے زائد عرصے سے جاری امریکی اجارہ داری کا خاتمہ کردے اور چین اس وقت صدر  ژی جنگ پن کی قیادت میں اپنے اس معاشی توسیعی منصوبے پر انتہائی انہماک سے عمل پیرا ہے۔

عرب ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے چین کی جانب سے امریکا کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں

چین اس خطے میں جہاں ایک جانب اپنا معاشی ، تجارتی اور سفارتی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے تو دوسری جانب عرب ممالک کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے بھی عالمی سیاست کی بساط پر چین کی جانب سے ایک ایسا چیلنج ثابت ہوں گے جن سے سب سے زیادہ مشکلات امریکا کے لیے کھڑی ہوسکتی ہیں جو کہ اس سے قبل خطے میں تنہا اثر و رسوخ کا حامل تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ امریکا کے لیے اس خطے میں سب سے زیادہ پرکشش شے یہاں کے تیل کے ذخائر ہیں جو کہ امریکا کی سب سے اہم ضرورت بھی ہیں ، تاہم کچھ عرصے سے امریکا اپنی تیل کی ضرورت کے لیے بیرونی ذرائع پر کم از کم انحصار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کی وجہ سے اس کی یہاں توجہ میں بہر حال کمی آئی ہے ۔ دوسری جانب چین جو خود بھی توانائی کے حصول کے لیے خود انحصاری کا خواہاں ہے، وہ تاحال سعودی عرب ، عراق اور ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ، یہی وہ صورتِ حال ہے جو عرب ممالک کو چین کے مزید قریب ہونے میں مدد دے رہی ہے۔

دریں اثنا عرب ممالک بھی اپنی معیشت کا دار  و مدار صرف تیل کے بجائے دوسرے ذرائع پر منتقل کرنے کے خواہش مند ہیں جس کے سبب ان کی جانب سے چین کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہا جارہا ہے۔ سعودی عرب اور اردن دونوں خواہش مند ہیں کہ بیجنگ ان کے ترقیاتی پلان کو اپنے رو ڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کرے اور وہ بھی اس عظیم الشان عالمی منصوبے سے مستفید ہوسکیں۔ اسی طرح چین مصر کے ساتھ سوئز کینال منصوبے پر بھی بات چیت کے مراحل میں ہے تو اومان میں بھی دس ارب ڈالر مالیت سے زائد کا ’سینو اومان انڈسٹریل سٹی ‘تعمیر کررہا ہے۔

سعودی عرب اور اردن خواہش مند ہیں کہ عظیم الشان عالمی منصوبے سے مستفید ہونے کے لیے بیجنگ ان کے ترقیاتی پلان کو اپنے رو ڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

یہی نہیں بلکہ چین اسرائیل میں بھی پورٹ اینڈ ریل ویز کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے اسرائیل کے ہائی ٹیک سیکٹر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے ، دوسری جانب تمام تر امریکی پابندیوں کے باوجود خطے میں اسرائیل کے روایتی حریف ایران کے ساتھ بھی چین کے بے مثال تجارتی تعلقات ہیں۔ ان تمام ممالک کے ساتھ چین کے یہ خصوصی تجارتی اور سفارتی تعلقات اسے خطے کے مستقبل میں ایک منفرد حیثیت دے رہے ہیں جس کے اثرات عن قریب دیکھنے میں آئیں گے۔

چین کی دفاعی رسائی


ایک جانب چین معاشی میدان میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی گرفت مضبوط کررہاہے تودوسری جانب گزشتہ کئی سال سے وہ اس خطے میں اہم ملٹری پوزیشن حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ اسی سلسلے میں چینی بحریہ سفارتی معاہدوں کے ذریعے بحیرہ عرب کے پانیوں میں آبنائے ہرمز، سوئس کینال اور باب المندب تک رسائی حاصل کرنے میں کام یاب ہوچکی ہے اور یہ رسائی چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں پاکستان کے سی پیک روٹ کے بعد سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

چین اب مشرق وسطیٰ میں ایسے ہتھیار بھی فراہم کررہا ہے جو کہ اس سے قبل صرف اور صرف امریکا کی جنگی برآمدات کا حصہ ہوا کرتے تھے ، جیسا کہ یو اے ای کو جدید ڈرون طیاروں کی فراہمی ، جن کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ ان ڈرون طیاروں کی مدد سے یمن میں اہم حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

چین مشرقِ وسطیٰ میں امریکا سے ہتھیاروں کی مارکیٹ بھی چھین رہا ہے۔ جن جدید ڈرون طیاروں سے یمن میں اہم حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا وہ متحدہ عرب امارات کو چین نے فراہم کیے۔ چین سعودی عرب کے ساتھ ڈرون سازی کا معاہدہ بھی کر چکا۔

چین نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ مل کر ڈرون سازی شروع کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ یہ خطہ اس سے قبل ہتھیاروں کے حصول کے لیے امریکا پر انحصار کرتا تھا تاہم اب ان کا جھکاؤ چین کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا سبب چین کے ہتھیاروں کا زیادہ جدید، مہلک اور نسبتاً سستا ہونا ہے۔

یہ ساری صورتِ حال اگر کسی کے لیے پریشان کن ہے تو وہ امریکا ہے جس کے پاس بیجنگ کے اس معاشی توسیعی منصوبے کے سامنے اپنی بقا کے لیے فی الحال کوئی مضبوط منصوبہ نہیں ہے۔ واشنگٹن کے لیے سب سے آسان ہے کہ وہ چین کی اس پیش رفت کو نظرانداز کرکے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کرے لیکن ایسا کرنا بھی سنگین غلطی ہوگی کہ اگر واشنگٹن نے جلد از جلد اہم اقدامات نہیں کیے تو اس کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا خواب بن کر رہ جائے گا۔

پاکستان کا کردار


چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں پاکستان کلیدی کردار کا حامل ملک ہے کہ اس روٹ کی سب سے اہم شاہ راہ چین سے شروع ہوکر خنجراب کے راستے پاکستان میں داخل ہوتی ہے اور پورے ملک سے گزرتی ہوئی چینی مصنوعات کو گوادر کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی دے دیتی ہے جہاں سے آگے یورپ کی منڈیوں تک رسائی کا آسان اور سستا ترین راستہ کھلتا ہے۔ پاکستان میں ان دنوں سی پیک کے تحت کئی ترقیاتی منصوبے انتہائی تیزی سے جاری ہیں اور بہت سے مستقبل میں شروع ہوں گے ، معاشی ماہرین کی جانب سے سی پیک کو پاکستان کے درخشاں معاشی مستقبل کی نوید قرار دیا جارہا ہے۔

یہی وقت ہے کہ خطے میں لڑی جانے والی معاشی جنگ میں زیادہ سے زیادہ جگہ بنانے کے لیے پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ اپنا رشتہ از سرِ نو استوار کرے۔

ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ جہاں پاک فوج نے انتہائی جاں فشانی سے ملک میں جاری دہشت گردی پر قابو پایا ہے اور اس تجارتی شاہ راہ کے لیے ایک پرسکون ماحول یقینی بنایا ہے، ایسے ہی پاکستان کی حکومت خارجہ محاذ کو دل جمعی سے سنبھالے اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بالخصوص سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لیے سرمایہ کاری کے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل کرسکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے سوا تمام ممالک مسلمان ہیں اور ان کی حکومتوں نے ہمیشہ پاکستان کی اہمیت اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ وقتاً فوقتاً فوائد بھی حاصل کیے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اس معاشی جنگ میں بھرپور طریقے سے آگے بڑھے اور مڈل ایسٹ میں واقع تمام ممالک سے اپنے رشتے از سرِ نو استوار کرتے ہوئے دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی اس تجارتی جنگ میں اپنے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ بنانے میں کام یابی حاصل کرے کہ یہی وقت کی ضرورت ہے ، مضبوط معیشت ہی مضبوط ریاست کی آخری ضمانت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں