The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: چین نے اپنے شہریوں کے لیے کم وقت میں ایک اور جدید اسپتال بنا لیا

بیجنگ: چینی دارالحکومت بیجنگ میں بیرون ملک سے آنے والے افراد کو قرنطینیہ میں رکھنے کے لیے 16 سو بستروں کا اسپتال تیار کرلیا گیا، یہ سینٹر خاص طور پر بیرون ملک سے وطن واپس لوٹنے والے چینی شہریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

نیا بنایا گیا یہ اسپتال اس سے قبل سارس وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے بنایا گیا تھا اور اب اسے تزئین نو کے بعد قرنطینیہ سینٹر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق بیجنگ ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے پہنچنے والے افراد کے پہلے گروپ کو گزشتہ روز اس اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

سینٹر کو 15 ہزار مزدوروں نے 53 روز میں تیار کیا ہے اور یہ 16 سو بستروں پر مشتمل ہے۔ یہاں 600 میڈیکل ورکرز کو تعینات کیا گیا ہے جو کرونا وائرس کے مشتبہ و مصدقہ مریضوں کا علاج کریں گے۔

یہ سینٹر خاص طور پر ان چینی شہریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو وائرس کے پھیلاؤ کے دوران مختلف ممالک میں ہی رک گئے تھے، اور اب جب چین نے اس وائرس پر قابو پا لیا ہے تو یہ واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں اب ہر روز 20 ہزار افراد بیرون ملک سے واپس آرہے ہیں، کرونا وائرس پر قابو پالینے کے بعد اب مختلف ممالک میں موجود چینی شہریوں کی بڑی تعداد وطن واپس لوٹنا چاہتی ہے اور اس کے لیے لوگ چارٹر طیارے میں سیٹ حاصل کرنے کے لیے 21 ہزار پاؤنڈز دینے کو بھی تیار ہیں۔

حکام نے اب تک 54 افراد کی نشاندہی کی ہے جو بیرون ملک کرونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں آئے، حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے افراد کی واپسی چین کی ان سر توڑ کوشش کو زائل نہ کردے جو اس نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیں۔

حکام نے بیرون ملک موجود چینی شہریوں سے واپس نہ آنے کی اپیل بھی کی ہے اور ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ بیرون ملک سے چین آنے والے تمام افراد کو 14 دن قرنطینیہ میں گزارنے ہوں گے۔

حکام کے مطابق چین میں 7 مارچ سے اب تک کرونا وائرس کا کوئی مقامی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم اس عرصے میں 54 ایسے افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جوبیرون ملک سے آئے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں