The news is by your side.

Advertisement

خاتون ڈٹ گئیں؛ ہائی وے کا نقشہ تبدیل

بیجنگ : چینی خاتون گھر بچانے کی دس سالہ جنگ جیت گئیں، خاتون کی ضد نے حکام کو ہائی وے کا نقشہ تبدیل کرکے گھر کے اعتراف میں تعمیر کرنے پر مجبور کردیا۔

گھر ایک نعمت ہے جسے کوئی چھوڑنا نہیں چاہے گا حتیٰ کہ حکومت بھی اسے تباہ کرکے اس کی جگہ کوئی سڑک تعمیر کرے تو بھی مکین اپنا گھر دینے پر راضی نہیں ہوں گے لیکن اگر متعلقہ ادارے گھر کے بدلے معقول قیمت ادا کریں یا گھر کے بدلے گھردیں تو مکین باآسانی راضی ہوجائیں گے۔

لیکن چینی خاتون نے حکومت کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور دس سال تک راضی کرنے اور متعدد پیشکشوں کے باوجود خاتون نے گھر دینے سے انکار کردیا۔

جی ہاں! گونزہو صوبے میں واقع ‘نیل ہاؤس’ (ایسا گھر جس کے مکین اسے چھوڑنے پر راضی نہ ہوں) اب عالمی خبروں کی بھی زینت بن گیا ہے، جس کی وجہ اس کی مالکن لیانگ ہیں جو مسلسل 10 برس تک چینی حکومت کی پیشکشوں کو مسترد کرتی رہیں اور اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کردیا۔

خاتون کا مسلسل انکار سن کر چینی حکام نے ہائی وے کی سڑک گھر کے اعتراف سے گزارنے کا فیصلہ اور اسے 2020 میں مکمل طور پر تعمیر کردیا لیکن ہائی وے سڑک کی تعمیر چینی حکام کے منصوبے کے مطابق نہیں ہوئی کیوں کہ اس سڑک کے درمیان میں چھوٹا کا گھر اب بھی واقع ہے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ پر 7 کمپنیاں اور 47 خاندان آباد تھے لیکن انہوں نے حکومت کی پیشکش قبول کی اور دوسری جگہ منتقل ہوئے لیکن خاتون نے حکومت کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا اور اب بھی اسی گھر میں مقیم ہیں۔

لیانگ نامی خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں دو فلیٹس کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انہوں نے حکومت سے اس گھر کے بدلے 4 فلیٹس کی مانگ کی جسے حکومت نے مسترد کردیا اور حکومتی پیشکش کو میں ماننے سے انکاری ہوگئی۔

اب یہ چھوٹا سا مکان سیاحوں کی توجہ کا بھی مرکز بنا ہوا ہے کیوں کہ یہ ہائی وے کے درمیان واقع ہے اور اس گھر کی وجہ سے ہائی وے کی دونوں سڑکوں کو الگ الگ تعمیر کرنا پڑا۔

ماحولیاتی ماہرین نے مکان مالکن کو اردگرد کے خراب ماحول اور شور شرابے سے متنبہ کیا لیکن خاتون نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ‘آپ لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں کا ماحول خراب ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہاں پُرسکون ، آزاد ، خوشگوار اور آرام دہ ماحول ہے’۔

خیال رہے سے اس سے قبل برطانیہ میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آچکا ہے جس کی وجہ سے ایم 62 موٹروے کو دو الگ الگ حصوں میں تعمیر کرنا پڑا۔

برطانیہ کا نیل ہاؤس

Comments

یہ بھی پڑھیں