The news is by your side.

Advertisement

چین میں آسمان کو چھوتے دیو قامت مجسمے

دنیا کی اہم معاشی طاقت چین ترقی کے نئے ریکارڈز قائم کر رہا ہے۔ سنہ 2016 میں چین نے 80 سے زائد بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں جن میں سے کچھ 650 فٹ بلند تھیں۔

یہ چین کا ایک منفرد اور انوکھا ریکارڈ ہے۔

ان عالیشان عمارتوں کے ساتھ چین نہایت بلند مجسمے بھی تعمیر کر رہا ہے جو آسمان کو چھوتے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ مجسمے چین کے عظیم لیڈروں جیسے ماؤزے تنگ اور بدھ مذہب کے بانی گوتم بدھ کے ہیں۔

آئیں چین کے ان منفرد اور عظیم مجسموں کے بارے میں جانتے ہیں۔


چین کے صوبے گیژو میں تعمیر کیا جانے والا یہ مجسمہ چینی عقائد کے مطابق میاؤ دیوی کا ہے جو خوبصورتی کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔

فی الحال یہ مجسمہ اپنی تکمیل کے مراحل میں ہے اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس کی اونچائی 288 فٹ ہوگی۔


سنہ 2009 میں گرینائٹ سے تعمیر کیا جانے والا یہ مجسمہ ماؤزے تنگ کا ہے جو عوامی جمہوریہ چین کے بانی اور ایک انقلابی لیڈر تھے۔

یہ مجسمہ جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر تعمیر کیا گیا۔


ماؤزے تنگ کا ایک اور سنہری مجسمہ ہنان صوبے میں بنایا گیا ہے جو 120 فٹ بلند ہے۔

تاہم مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ اس مجسمے کو ڈھا دیا جائے کیونکہ ماؤ کی بعض پالیسیوں نے اس علاقے کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے۔


یہ مجسمہ چینی عقائد کے مطابق بدھ مذہب کی ایک اور دیوی گنین کا ہے جس سے رحم دلی منسوب ہے۔

دیوی کا یہ مجسمہ 60 فٹ بلند ہے۔


چین کے ایک اور لیڈر سن یت سین کی اہلیہ سنگ گنگلنگ کا 79 فٹ مجسمہ سنہ 2012 میں ہنان صوبے میں تعمیر کیا گیا۔


یہ مجسمہ قدیم چین کے ایک جرنیل گان یو کا ہے۔

اسی جرنیل کا ایک اور مجسمہ جنگ ژو میں بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں یہ جرنیل دشمن کے خلاف معرکہ نظر آرہا ہے۔

اس مجسمے کی اونچائی 120 فٹ جبکہ وزن 13 سو ٹن ہے۔


یہ مجسمہ بدھا کا بتایا جاتا ہے جس میں وہ خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں تعمیر کیے جانے والے اس مجسمے کو چین کے ایک تفریحی مقام پر نصب کیا گیا ہے۔


مصر میں ابو الہول کے اس عظیم مجسمے کی نقل چین کے شہر شیزی زنگ میں بنائی گئی ہے۔

یہ نقل فی الحال زیر تعمیر ہے، اور مستقبل میں اسے ان فلموں کی شوٹنگ کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا جن میں مصر کے اہرام دکھانا مقصود ہوگا۔

مضمون بشکریہ: بزنس انسائیڈر


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں