The news is by your side.

Advertisement

چینی ڈاکٹر کرونا کو شکست دینے والے بیٹے کو 55 دن بعد بھی گود میں نہ اٹھا سکا

بیجنگ: چینی ڈاکٹر کی ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ کرونا وائرس سے لڑنے والے بیٹے سے 55 دن بعد ملاقات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، بیٹے سے ملتے ہی ڈاکٹر نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔

32 سالہ ڈاکٹر ہو سیو آن چین کے شہر ووہان میں ڈیوٹی پر تھا، جب وہ اپنے ہوم ٹاؤن لوٹا تو اسے اپنے 5 سالہ بیٹے سے ملنے دیا گیا، جو 55 دن تک کرونا وائرس سے جنگ لڑنے کے بعد صحت یاب ہو گیا تھا، ہو سیو آن اپنے بیٹے سے مل کر رو پڑا، تاہم وہ بیٹے کو گود میں نہیں لے سکا۔

باپ بیٹے کی ملاقات دور سے کرائی گئی، وہ دونوں ایک دوسرے کو قرنطینہ شرائط کی وجہ سے چھو بھی نہ سکے، کیوں کہ ووہان شہر سے لوٹنے پر ڈاکٹر کو 14 دن کے لیے آئسولیشن میں جانا تھا۔ اس دوران بیٹا چند قدم پر کھڑے باپ سے ملنے کے لیے زور لگاتا رہا لیکن اسے ملنے نہیں دیا گیا۔

ڈاکٹر ہو سیو آن جنوری کے آخر میں خاندان کو چھوڑ کر 136 ڈاکٹرز اور نرسز کے ساتھ لیاؤننگ صوبے سے چین کے شہر ووہان گیا تھا، یہ اس صوبے سے کرونا وائرس سے بری طرح متاثر شہر جانے والا پہلا گروپ تھا۔

ڈاکٹرز اور نرسز کی ٹیم جب واپس اپنے شہر پہنچی تو گلیوں میں شہری روتے ہوئے ان کا استقبال کرنے نکل آئے، اور انھیں ہیرو قرار دیا گیا، لوگ انھیں گزرتے دیکھ کر خوش آمدید کے نعرے بھی لگاتے رہے۔

خیال رہے کہ چین میں کرونا وائرس سے اب تک 3,261 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ مجموعی متاثرین کی تعداد 81,054 ہے، دوسری طرف صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اور تاحال 72,440 لوگ ٹھیک ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں