The news is by your side.

’چینی اور روسی افواج مخالف بیرونی طاقتوں کو روک سکتی ہیں‘

چینی عسکری ماہر نے کہا ہے کہ چین اور روس کا فوجی تعاون خطے میں امن کے ساتھ بیرونی طاقتوں کیخلاف سخت مزاحمت کرسکتا ہے۔

چین کے عسکری ماہر اور ایک ٹی وی مبصر سونگ ژونگ پنگ نے ایک غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان روس میں ہونے والی ووستوک 2022 مشقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کا فوجی تعاون خطے میں امن واستحکام کے ساتھ دونوں ممالک کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والی بیرونی طاقتوں کے خلاف نہ صرف بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ یہ تسلط اور طاقت کی سیاست کے خلاف جنگ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

ان کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں چین کی شرکت “چین روس فوجی تعاون کے مسلسل گہرے ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ ان مشقوں میں چین اور روس ایک دوسرے سے سیکھیں گے اور یہ بات دونوں ممالک کی فوجوں کے اپنے مفاد میں ہے۔

چین کی فوجیں مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کیلیے روس پہنچ ہیں جس کا باضابطہ اعلان گزشتہ جمعرات کو چین کی وزارت قومی دفاع کے ایک ترجمان سینئر کرنل تان کیفی نے ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا اور کہا تھا کہ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنے فوجیوں کو ووستوک 2022 مشق میں حصہ لینے کے لیے روس روانہ کر دیا ہے۔

کرنل تان کیفی نے اعلان کیا تھا کہ چینی زمینی اور فضائی افواج مقررہ پوزیشنوں پر پہنچ چکی ہیں اور چینی بحری افواج نے سمندر میں روسی بحری جنگی جہازوں کے ساتھ ملاپ کے بعد مواصلاتی مشقیں کی ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹریٹجک کمانڈ اینڈ اسٹاف مشق 30 اگست سے 5 ستمبر تک روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف والیری گیراسیموف کی سربراہی میں روس کی مشرقی ملٹری ڈسٹرکٹ کے 13 تربیتی میدانوں میں منعقد ہوگی۔ ان مشترکہ فوجی مشقوں کے دیگر شرکا میں بھارت، بیلاروس ، منگولیا اور تاجکستان بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں