The news is by your side.

Advertisement

صدیوں پرانے مقدس اوراق جنھیں صحرا کی ریت نگل رہی ہے

براعظم افریقا اور اس کے صحرا دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اس براعظم کے مختلف قدیم اور تاریخی شہر صدیوں‌ سے تجارت اور خرید و فروخت کا مرکز رہے ہیں اور یہاں کی منڈیوں میں قریب اور دور دراز کے مقامات سے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

اسی براعظم کے ایک صحرا کے درمیان “شنقیط” بھی صدیوں سے آباد ہے اور موریطانیہ کے اس شہر میں ہزاروں سال سے تاجروں کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔

آج کے دور میں تو یہ شہر اور ایسی کئی بستیاں جدید سہولیات اور سڑکوں یا عمارتوں سے بھر چکی ہیں، مگر شنقیط وہ شہر ہے جو ہزاروں برس پہلے بھی علم و فنون اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اس کا ثبوت یہاں موجود قدیم لائبریریاں ہیں جو آج موریطانیہ کا خوب صورت ثقافتی ورثہ مانی جاتی ہیں۔

ان کتب خانوں میں ہزار برس پرانے تحریری نسخے اور دیگر قدیم دستاویزات آج بھی محفوظ ہیں۔ تاہم ان قدیم نسخوں، مقدس اوراق اور مختلف کتب کو چند برسوں کے دوران صحرا کی ریت نے برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔

تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ علاقہ ایک اہم گزر گاہ رہا ہے اور شنقیط سے ماضی بعید میں حج کے لیے قافلے روانہ ہوتے تھے۔ حج کے دوران لوگ جو مذہبی کتب، مقدس نسخے اور اشیا اپنے ساتھ لاتے ان میں سے کچھ یہاں موجود کتب خانوں میں رکھ دیتے تاکہ طالب علم اور مقامی لوگ استفادہ کرسکیں۔

چند برس قبل تک شنقیط کی ایسی چند لائبریریوں میں قرونِ وسطیٰ سے لے کر موجودہ دور کی تقریباً سات سو کتابیں اور مخطوطات موجود تھے۔

ماہرین کے مطابق اس شہر کی لائبریریوں میں نویں صدی عیسوی تک کی تحاریر بھی محفوظ ہیں۔

شنقیط کی ان لائبریریوں کی عمارتیں پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں اور یہ اس دور کے کاری گروں کی مہارت کا نمونہ ہیں۔ تاہم ان کی مکمل دیکھ بھال اور مرمت کے ساتھ ان کو صحرا کی ریت سے بچانے کی ضرورت ہے جو ان نوادر اور قدیم نسخوں کو آہستہ آہستہ نگل رہی رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں