The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی اس خوبصورت عمارت کو منحوس محل کیوں کہا جاتا ہے؟

کراچی : چنیوٹ کا تاج محل جو ایک تاجر نے اپنے بیٹے کے لیے بنایا، اس محل کو کبھی یتیم خانہ بنایا گیا تو کبھی لائبریری اور کچھ لوگ اسے منحوس محل بھی کہتے ہیں۔

پاکستان کے مشہور شہر چنیوٹ میں قائم “تاج محل” اپنی مثال آپ ہے، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں انفرادیت اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔

چودہ مرلے پر تعمیر کی گئی یہ پانچ منزلہ خوبصورت اور دیدہ زیب عمارت70فیصد لکڑی سے بنائی گئی ہے اور اس پر کیا گیا کندہ کاری کا کام دیکھنے والوں کو آج بھی حیرت زدہ کردیتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کلکتہ کے ایک کامیاب تاجر شیخ عمر حیات نے پاکستان ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے1935 تعمیر کروایا تھا۔ جس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لیے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔

شیخ عمر حیات کی اہلیہ اور گلزار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی  مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔

ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہوگئی۔ ان دونوں ماں بیٹا کی قبریں بھی اسی محل میں بنائی گئی ہیں۔ اسی حوالے سے کچھ لوگ اسے منحوس محل بھی کہتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں