site
stats
خیبر پختونخواہ

چترال : بے قصورطالبہ کو اسکول سے نکالنے پرخاتون ٹیچر معطل

chitral

چترال : پرائمری جماعت کی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور بے جا اسکول سے بے دخل کرنے پر خاتون ٹیچر کو ملازمت سے معطل کردیا گیا، مذکورہ ٹیچر کیخلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سرکاری اسکول کے اساتذہ طلباء سے ذاتی کام کرانے لگے، طلباء و طالبات کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، جس کی مثال چترال کے ایک اسکول میں دیکھی گئی۔

گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول شغور لوٹکوہ کی خاتون ٹیچر رضیہ بی بی نے تیسری کلاس کی طالبہ کو ذاتی کام ٹھیک سے نہ کرنے پر اسکول سے نکال دیا۔

معصوم طالبہ کا قصور محض اتنا تھا کہ اس نے ٹیچر کی چند ماہ کی بچی کی صحیح دیکھ بھال نہیں کی اور وہ جھولے سے گر گئی، جس پر ٹیچر نے طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنا کراسکول سے بھی بے دخل کردیا۔

سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر چترال نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ای ڈی او فیمیل کو خاص ہدایات جاری کیں۔


 مزید پڑھیں: چترال میں پہلی بار محافظ دارالا طفال یتیم خانے کا آغاز


ڈی سی کی ہدایت پر ای ڈی او فیمیل بی بی حلیمہ نذیر نے خاتون ٹیچر رضیہ بی بی کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیئے اور اس کیخلاف انکوائری شروع کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top