ایسے جوتے جنہیں کھا کر مزہ آجائے
The news is by your side.

Advertisement

ایسے جوتے جنہیں کھا کر مزہ آجائے

اوساکا: ریہگا رائل ہوٹل کے ذہین شیف موتوہیرواوکائی نے اپنے فن سے ایسے جوتے تیار کیے ہیں جو کھانے کے لیے عوام خود چل کر آرہے اور انہیں خریدنے کی خواہش کا اظہار بھی کررہے ہیں۔

اگر آپ کو کوئی جوتے کھانے کا  مشورہ دے تو جواب میں آپ اُس کا مذاق بنائیں گے یا پھر اُس پر غصہ کریں گے مگر جاپان کے شہر اوساکا کے ریہگا رائل ہوٹل کے مشہور شیف نے اپنی صلاحیتوں سے ایسے جوتے بنائے جو کھانے کے لوگ خود آرہے ہیں۔

لی ایکلات بوتیک میں رکھے ہوئے یہ جوتے فروخت کیے جارہے ہیں جنہیں ہر کوئی مزے لے کر کھانا چاہتا ہے کیونکہ یہ جوتے  اس انداز سے تیار کیے گیے ہیں کہ  ان کے تلووں سے لے کر فیتوں تک چاکلیٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔

shoes-1

یہ جوتے اتنی خوبصورتی سے تیار کیے گیے ہیں کہ دیکھنے میں یہ چمڑے سے بنے ہوئے اصلی جوتے لگتے ہیں، ان کی لمبائی عام جوتوں کے برابر یعنی 10.2 انچ رکھی گئی ہے جب کہ یہ مکمل طور پر خالص چاکلیٹ سے تیار کیے گیے ہیں۔

جوتے تین ’’گہرا کتھئی، ہلکا کتھئی اور لال کتھئی (سرخی مائل بھورے)‘‘ رنگوں میں دستیاب ہیں۔ جاپانی شیف کا کہنا ہے کہ جوتوں کی تیاری بہت محنت سے کی جاتی ہے تاہم حتمی مرحلے میں انہیں چمڑے جیسے اصلی جوتوں کی شکل دینے کے لیے بہت زیادہ مہارت اور صبر آزما مرحلے سے گزرنا ضروری ہے، آخری مرحلے میں میں غلطی کا امکان بھی زیادہ ہوتاہے‘‘۔

shoes-2

شیف کی مہارت اور مشقت کے باعث ان چاکلیٹی جوتوں کی قیمت 29160 ین مقرر کی گئی ہے، جو پاکستانی روپے کے حساب سے 26 ہزار روپے بنتی ہے، ہر ڈبے کے ساتھ جوتے پہننے میں مدد دینے والا شو ہارن اور شو کریم کا ایک جار بھی دیا جارہا ہے ، جن کی تیاری میں بھی مکمل چاکلیٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔

اگر آپ شوق رکھتے ہیں اور یہ مہنگے چاکلیٹی جوتے خریدنا بھی چاہتے ہیں تو آپ کو تیار رہنا ہوگا کیونکہ ان جوتوں کے صرف 9 جوڑے تیار کئے جارہے ہیں جو ’’جنٹل مینز ریڈیئنس‘‘ سے ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر 20 جنوری سے 7 فروری تک فروخت کئے جائیں گے اور کامیاب خریداروں کو 7 سے 14 فروری کے دوران، یعنی ویلنٹائنز ڈے تک سپلائی کردیئے جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں