The news is by your side.

Advertisement

شناختی کارڈ کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا،چوہدری نثار

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ملک کی شناخت کسی غیر ملکی کو چند روپوں کے عوض بیچ دینا ناقابل برداشت عمل ہے،چھ مہینوں میں شناختی کارڈ کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں  نادرا اور پاسپورٹ حکام سے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ملا منصور کے جعلی دستاویزات پر پاکستان میں موجودگی اور بیرون ملک سفر کرنے سے بین الاقوامی طور پر سبکی اُٹھانی پڑی ہے، یہ مسئلہ محض جعلی کاغذات کی فراہمی کا نہیں بلکہ ملک کی سیکیورٹی، عزت اور شہرت کا ہے،جو ہر قیمت سے مقدم ہونا چاہئیے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ نے ’’نادرا‘‘ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2006 سے 2012 تک صرف 435 پاسپورٹ منسوخ ہوئے تھے جب کہ ہماری حکومت نے چھان پھٹک کے بعد محض دو سال میں 29000پاسپورٹ منسوخ کیے اور اس عمل کو مزید شفاف اور تیز کیاجارہا ہے۔

نادرا کے حوالے سے اپنی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ صرف پچھلے پانچ ماہ میں ہماری حکومت نے ایک لاکھ بارہ ہزارجعلی شناختی کارڈز منسوخ کیے، اس سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جعلی شناختی کارڈز بنانے والے نادرا کے اہلکاروں کو برطرف نہیں کیا گیا، 2001 سے 2012 تک محض 18 ملازمین کے خلاف کارروائی کی گئی، جب کہ ہمارے دور حکومت میں دو سال میں 826 ’’نادرا‘‘ اہلکاروں کو جعلی شناختی کارڈ بنوانے پربرطرف کیا گیا۔

ملا منصور کو جاری جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حوالے سے ان کا مؤقف تھا کہ ملا منصور کو شناختی کارڈ کا اجراء 2002 میں ہوا، جب کہ پاسپورٹ 2005 میں جاری ہوا، جس کی 2012 میں دوبارہ تجدید کی گئی، اب اس کا پاسپورٹ 2016 میں ’’رینیو‘‘ ہونا تھا، اگر وہ آتا تو گرفتار ہو جاتا۔

انہوں نے نادرا اور پاسپورٹ حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی کی بھی ہو، جعلی شناختی کارڈز اور جعلی پاسپورٹ تو ادارے نے جاری کیا، جس کے ذمہ دار ادارے کے ڈی جی ہیں، یہ مؤقف برداشت نہیں کیا جائے گا کہ پاسپورٹ و شناختی کارڈ کے اجراء کے وقت سیاسی حکومت کوئی اور تھی۔

اس موقع پر انہوں نے ’’نادرا‘‘ کے 36 ڈی جییز میں 16 کو برطرف کرنے کا اعلان کیا، اس طرح نادرا میں اب صرف 20 ڈائریکٹر جنرلز کام کریں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے مطابق جعلی شناختی کارڈ اور جعلی پاسپورٹ کی سرکوبی کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں گے

1- چھ ماہ میں تمام شناختی کارڈز کی تصدیق کیا جائے گی، جس کے لیے خاندان کے سربراہ کو اس کے فیملی ممبرز کے نام بھیجیں جائیں گے، اگر کسی غیر متعلقہ افراد کا اندراج ان کے خاندان میں ہوگیا ہے تو فوری طور پر تصیح کروا لیں، اس طرح تمام لوگوں کے ’’ڈیٹا‘‘ کی تصدیق ہو جائے گی۔

2- اگر کسی شخص نے جعلی شناختی کارڈ بنا رکھا ہے، تو دوماہ کے اندر اسے منسوخ کروا کے شناختی کارڈ جمع کرادے،تو کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی،تاہم دو ماہ کی دی گئی مہلت کے بعد اگر کسی کے پاس سے جعلی شناختی کارڈ برآمد ہوا تو 7 سال قید کی سزا بھگتنی پڑے گی۔

3- نادرا اہلکار بھی اگر کسی جعلی شناختی کارڈ بنانے میں ملوث رہا ہے تو دو ماہ کے اندر ازخود تفصیلات مہیا کر کے وہ شناختی کارڈز منسوخ کراوئے،مہلت پوری ہونے کے بعد کسی کے ملوّث ہونے کے ثبوت ملے تو اہلکار کی محض معطلی یا بر طرفی نہیں ہوگی بلکہ قانون کے مطابق 14 سال کی قید ملے گی۔

4- غیرملکی افراد کی موجودگی یا جعلی شناختی کارڈز رکھنے کی اطلاع دینے والوں کو حکومت پاکستان انعامات سے بھی نوازے گی۔

5- یہ ہی تمام نکات ڈائریکٹر امیگریشن کو بھی ارسال کیے جائیں گے،اورامیگریشن بھی ان ہی خطوط پر کام کرے گی۔

6- نادرا میں 36 ڈائریکٹر جنرلز کے بجائے محض 20 ڈائریکٹر جنرل کام کریں گے، 16 ڈی جیز کو ہٹا دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نےکہا کہ ان نکات پر سختی سے عمل در آمد  کیا جائے گا،اس سلسلے میں کسی قسم کی سفارش قابل قبول نہیں ہو گی، انہوں نے کہا کہ کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے، ملک کی شہریت، ساکھ اور عزت کو بیچنے والوں کو جیل میں ہونا چاہیے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں