عیسائی بشپ نے یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کو مسترد کردیا Palestine
The news is by your side.

Advertisement

عیسائی بشپ نے یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کو مسترد کردیا

غزہ : عیسائی رہنما نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یروشلم میں واقع مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقامات مقدسہ کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کا عندیہ دیا ہے.

بشپ عطااللہ ہننا نے ان خیالات کا اظہار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، بشپ ہننا نے کہا کہ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو متعصبانہ اور نفرت آمیز فیصلہ کیا تھا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت پوری دنیا نے مسترد کردیا.

انہوں نے کہا کہ امریکا کے فیصلے نے عیسائی اور مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے اور ان کے مذہبی مقام کی تضحیک کی ہے جس پر مسلمان اور عیسائی دل گرفتہ ہیں.

الجزیرہ کے مطابق عیاسئی رہنما کا کہنا تھا کہ یروشلم دنیا بھر کے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس، روحانی اور قومی ثقافت کا درجہ رکھتی ہے۔ امریکی فیصلے سے مسلمانوں اور عیسائیوں کی دل آزاری ہوئی ہے جس پر امریکا کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑے گا.


 اسی سے متعلق : یروشلم تنازع، سلامتی کونسل نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا


انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے رہائشی مسلمان اور عیسائی امریکا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور ہر جائز عمل بروئے کار لائیں گے.


  یہ بھی پڑھیں : یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کو اقوام متحدہ نے مسترد کردیا


یاد رہے کہ 6 دسمبر 2017 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تل ابیب سے اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں