پی پی دور حکومت میں‌ قانون کے برخلاف سی آئی اے ایجنٹس کو ویزے دینے کا انکشاف -
The news is by your side.

Advertisement

پی پی دور حکومت میں‌ قانون کے برخلاف سی آئی اے ایجنٹس کو ویزے دینے کا انکشاف

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2010 میں دفتر خارجہ کی ہدایت کو نظر انداز کرکے ویزے جاری کیے، دفتر خارجہ نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ کسی ممکنہ مشن پر پاکستان آنے کے خواہش مند سی آئی اے اہلکاروں کو ویزے جاری نہ کیے جائیں۔

حالیہ صورتحال کے مطابق ممکنہ سی آئی اے اہلکاروں سے متعلق ویزا پالیسی میں  پیپلز پارٹی کی حکومت نے دفترخارجہ کی ہدایت نظرانداز کیا۔

سرکاری کاغذات میں درج ہے کہ وزارت خارجہ نے مختلف مشنز کوخط 18 جنوری 2010 کوجاری کیا تھا، دفترخارجہ نے 36 ممکنہ امریکی ایجنٹ کی فہرست اپنےسفارت خانوں کودی تھی، انہوں نے ہدایت کی تھی کہ ان کو ویزے جاری نہ کیے جائیں.

دفترخارجہ نے ہدایت کی تھی کہ یہ افراد کسی مشن پر پاکستان آنا چاہتے ہیں،14 جولائی2010 کووزیراعظم کی ہدایت پر پاکستانی سفیرکو ویزے کا اختیار دیا گیا.

واضح رہے کہ پرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی نے اس وقت کے وزیراعظم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر خط جاری کیا تھا.

cia

cia2

cia3

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کا ایک آرٹیکل میڈیا کی زینت بنا تھا، جس کے حوالے سے انہوں نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سے لوگ سنی سنائی باتوں پر عمل کرتے ہیں، امریکی ایجنٹوں کو ویزا دینے کےلیے حکومت پر زور نہیں دیا بلکہ امریکی حکومت کا مطالبہ پاکستان تک پہنچایا۔

پی پی پی کا ردعمل


دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری نے کہا تھا کہ سابق صدر نے مزید کہا کہ ’’اسامہ جیسا معاملے ہمارے سامنے آیا تاہم پارلیمنٹ کی مدد سے اس کا مقابلہ کیا، میں نہیں سمجھتا کہ حسین حقانی نے یہ کہا کہ اُس کو ویزا دینے کا اختیار نہیں تھا، حقانی اور ہماری سوچ میں بہت فرق آچکا ہے یہی وجہ ہے کہ میری اُس سے ملاقات نہیں ہوتی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں