جمعہ, جولائی 19, 2024
اشتہار

بجٹ 2024-25 : جعلی سگریٹ بیچنے والوں کے گرد گھیرا تنگ

اشتہار

حیرت انگیز

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2024-25کی بجٹ تجاویز پیش کردیں۔

انہوں نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے بجٹ کی تفصیلات بیان کیں جس نئے ٹیکسز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے اطلاق سے متعلق آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال بجٹ میں حکومت نے جعلی سگریٹس فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

- Advertisement -

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جعلی سگریٹس فروخت کرنے والی دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ سگریٹ کے فلٹر میں استعمال ہونے والے ایسیٹیٹ ٹو 44000 ہزار روپے فی کلو ایف ای ڈی لگانے کی تجویز ہے۔

شیشے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ (سبسڈی) ختم کرنے کی تجویز ہے جبکہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سیمنٹ پر ایف ای ڈی میں اضافہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ پر ایف ای ڈی کی شرح میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سیمنٹ پر ایف ای ڈی 2 روپے کلو سے بڑھا کر 3روپے کلو کردی گئی۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں مزید 5 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائےگا جب کہ بی آئی ایس پی میں27فیصد اضافے کے بعد رقم 597 ارب مختص کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 18877 ارب روپے کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیش کردیا ہے جس میں بجٹ خسارہ 8500 ارب روپے ہے جو وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق جی ڈی پی کا 6.9فیصد ہوگا۔

خسارے کے باوجود حکومت نے 1400 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے ہیں۔ تاہم اخراجات میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر انٹرسٹ (سود) کی ادائیگی کا ہے جس کی مد میں 9775 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ یہ رقم دفاعی اخراجات سے تقریبا چار گنا زیادہ ہے۔ دفاع کیلئے 2122 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں