The news is by your side.

Advertisement

دنیا کے کئی شہر دھنسنے لگے

دنیا بھر میں زیر زمین سے نکالے جانے والے ذخائر اور سطح سمندر میں اضافے نے دنیا کے کئی ساحلی شہروں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے اور یہ شہر آہستہ آہستہ دھنسنا شروع ہوگئے ہیں۔

اس کی ایک وجہ بلند و بالا عمارات کی تعمیر بھی ہے جس کی ایک مثال تھائی لینڈ کا دارالحکومت بینکاک ہے۔ بینکاک اپنے اسکائی اسکریپرز کے بوجھ تلے دھنس رہا ہے اور صرف اگلے 15 برس میں یہ شہر زیر آب آسکتا ہے۔

اس شہر میں کئی دہائیوں تک زمینی پانی یعنی گراؤنڈ واٹر نکالا گیا جس کے بعد زمین کی نیچے کی سطح کسی حد تک کھوکھلی اور غیر متوازن ہوگئی ہے۔

اور صرف بینکاک ہی اس خطرے کا شکار نہیں۔ دنیا کے 6 مزید بڑے شہر اسی خطرے سے دو چار ہیں۔

انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ نصف سے زیادہ سطح سمندر سے نیچے ہوچکا ہے جس کے باعث اب ملک کا دارالحکومت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

ہر سال یہ شہر 25 سینٹی میٹر مزید نیچے چلا جاتا ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ 95 فیصد شہر سنہ 2050 تک زیر آب آسکتا ہے۔

فلپائن کا دارالحکومت منیلا بھی اسی خطرے کا شکار ہے جس کی 1 کروڑ 30 لاکھ آبادی پینے اور زراعت کے لیے گراؤنڈ واٹر استعمال کرتی ہے۔ یہاں کی اہم زراعت چاول ہے جس کی فصل کے لیے بے تحاشہ پانی چاہیئے ہوتا ہے۔

چین کا شہر شنگھائی دھنسنے کی وجہ سے 10 سال میں 2 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ یہاں پر بھی زمین کے دھنسنے کی وجہ گراؤنڈ واٹر کا نکالا جانا ہے جس کے استعمال کی اب سخت نگرانی کی جارہی ہے۔

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ سطح سمندر سے نیچے واقع شہر ہے جو مون سون کی تیز بارشیں اور سائیکلون سے مستقل متاثر رہتا ہے۔ ڈھاکہ میں زمین کے نیچے ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے یہ شہر ہر سال مزید 5 ملی میٹر نیچے دھنس رہا ہے۔

ویتنام کا ہو چی من شہر دریا کے ڈیلٹا پر قائم ہے اور یہ بھی دھنس رہا ہے۔

امریکی شہر ہیوسٹن میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے کی جانے والی ڈرلنگ نے اس شہر میں طوفانوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ سطح سمندر میں اضافے سے شہر کے ڈوبنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں