The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ کم زور پڑ گئی تو ملکی سالمیت الم ناک صورتِ حال میں گِھر جائے گی، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اگر عدلیہ کا ادارہ کم زور پڑ گیا تو یہ ملکی سالمیت کے لیے الم ناک صورتِ حال ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ عدلیہ کو بد نام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ادارے پر الزامات لگائے جاتے ہیں تاکہ یہ کم زور پڑ جائے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی اگلی چیف جسٹس طاہرہ صفدر ہوں گی، یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس خاتون ہوں گی۔

چیف جسٹس نے وکلا سے خطاب میں کہا ’میں بہت چھوٹا انسان ہوں، میرے اندر تکبر نام کی کوئی چیز نہیں، آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنے اور انصاف کی فراہمی کے لیے کوشش کرتا ہوں۔‘

میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انھوں نے قوم سے ملک میں بر وقت انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا تھا، یہ وعدہ پورا ہوگا، ملک میں آئین اور جمہوریت قائم رہیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا ’ججز آئین اور جمہوریت کا علم بلند رکھیں۔‘ دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اس قوم کو عمر خطاب ثانی جیسی بہترین قیادت عطا فرمائے۔

کالا باغ اور بھاشا ڈیموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایک سازش کے تحت نہیں بننے دیا گیا، پانی زندگی ہے، اس کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کو احکامات صادر کرنے پڑے۔

شوکت عزیزازخود نوٹس کیس: چیف جسٹس کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رائے طلب

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جو کام حکومتوں کو کرنا چاہیے تھے، وہ نہیں ہوئے، اسی لیے خلا پُر کرنے کے لیے از خود نوٹس لینا پڑے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی  بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ اور پاک فوج پر سنگین نوعیت کے الزامات لگا دیے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں