The news is by your side.

Advertisement

ایگزیکٹوکے کاموں میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ یقین کیجیے، ایگزیکٹوکے کاموں میں مداخلت کا ہمیں کوئی شوق نہیں.

ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے اسلام آباد میں ایک کارڈیولوجی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا. جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ مجھ پر بڑے بھائی کی طرح یقین کریں، صحت کا نظام بہتر بنانے کے لئے حکومت کے ساتھ ہیں.

چیف جسٹس نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام کی ازسر نو تجدید کی ضرورت ہے، تعلیم کے فروغ کو صدقہ جاریہ سمجھ کرکیجیے، اللہ کی خاطر عوام الناس کی خدمت کریں.


وزیراعظم کی چیف جسٹس سے دو گھنٹے طویل ملاقات، سپریم کورٹ‌ کا اعلامیہ جاری

انھوں نے کہا، دو قبل ماہ سوچا تھا کہ صحت سے متعلق مسائل حل ہوں، پنجاب کارڈیالوجی میں دل کےمریضوں کے آپریشن کے لئے قطارتھی، خوشی ہے ک اب 60 ہزار سے ایک لاکھ تک میں‌ مریض کو اسٹنٹ ڈالاجاسکتا ہے، البتہ علاج کے لئے مزید اسپتال بنانے کی ضرورت ہے.

انھوں‌ نے کہا کہ ایک جج کی بیٹی کا ایکسیڈنٹ ہوا، تو اسپتال کابل مجھے منظورکرنا تھا، نجی اسپتال کا کچھ دن کا بل ایک کروڑ روپے سے زائد تھا، جسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ ہمیں ایسے اسپتال بالکل نہیں چاہییں.

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دواؤں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، ڈائلیسز، ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لئے بھی کام کرنا چاہتا ہوں، آپ لوگ اس سلسلے میں میری رہنمائی کریں، صحت کے بنیادی حق کے لئےکو شش کرتے ہیں.


وزیراعظم سےملاقات میں کھویا کچھ نہیں پایا ہی پایا ہے، چیف جسٹس


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں