site
stats
پاکستان

سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ2017 کے خلاف تمام اپیلیں سماعت منظور

FIA PANAMA CASE

اسلام آباد : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف تمام اپیلیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیمبر میں انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی، چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات ایکٹ دوہزار سترہ کیخلاف تمام اپیلیں ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرلیں۔

عدالت کا تین رکنی بینچ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر سماعت کرے گا۔

عدالت نے رجسٹرار آفس کے متعلقہ فورم سے رجوع نہ کرنے کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے تمام درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردیں۔

چیف جسٹس نے تمام درخواستیں سماعت کے لئے مقرر کرتے ہوئے تمام اپیلوں کو نمبر لگانے کی بھی ہدایت کر دی۔

خیال رہے کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ کی منظوری کیخلاف اپیلیں شیخ رشید، پیپلزپارٹی، عادم آدمی پارٹی، جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی، جمشید دستی، داود غزنوی اور ذوالفقار بھٹی کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے تمام درخواستوں پر اعتراضات لگائے تھے جبکہ درخواست گزاروں نےاعتراضات کیخلاف ان چیمبر اپیلیں کررکھی تھیں۔


مزید پڑھیں : شیخ رشیدنےانتخابی اصلاحات بل 2017 کیخلاف درخواست دائر کردی


درخواستوں میں نااہل نوازشریف کو پارٹی صدر بننے سے روکنے کی استدعا کی گئی ہیں۔

اجمل پہاڑی یا عزیربلوچ کو پارٹی کا صدر بنایا جاسکتا ہے، شیخ رشید

دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے رجسٹرار کو اپیلوں پر سماعت کی تاریخ دینے کا کہا ہے، کیس اس ہفتے یاآئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر ہو جائے گا۔

شیخ رشید نے کہا کہ کسی بھی نااہل کو سیاسی جماعت کا صدر بنایا جاسکتا ہے، اجمل پہاڑی یا عزیربلوچ کو پارٹی کا صدر بنایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل نااہل نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت کا اہل بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی منظور کرایا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top