The news is by your side.

Advertisement

عمر قید کا مطلب تا حیات قید ہوتا ہے، چیف جسٹس آصف کھوسہ

اسلام آباد : چیف جسٹس آصف کھوسہ نے قتل کے ملزم کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی اور ریمارکس دیئے  عمر  قید کا مطلب ہوتا ہے تا حیات قید ، کسی موقع پر عمر قید کی درست تشریع کریں گے، ایسا ہوا تو اس کے بعد ملزم عمر قید کی جگہ سزائے موت مانگے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قتل کے ملزم عبدالقیوم کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت ملزم عبد القیوم کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے نظر ثانی درخواست خارج کر دی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمر قید سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمر قید کا یہ مطلب نکال لیا گیا 25 سال قید ہے، عمر قید کی غلط مطلب لیا جاتا ہے، عمر قید کا مطلب ہوتا ہے تا حیات قید۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کسی موقع پر عمر قید کی درست تشریع کریں گے، اگر ایسا ہو گیا تو پھر دیکھیں گے کون قتل کرتا ہے، ایسا ہوا تو اس کے بعد ملزم عمر قید کی جگہ سزائے موت مانگے گا ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ بھارت میں جس کو عمر قید دی جاتی ہے اس کے ساتھ سالوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے،اگر کسی کو عمر قید دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ لکھا جاتا ہے 30 سال یا کتنے سال سزا کاٹے گا۔

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی ملزم کو سزائے موت دی تھی،سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔

یاد رہے چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کےاصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا ضابطہ فوجداری ضمانت قبل ازگرفتاری کی اجازت نہیں دیتا، ہر کیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں آجاتی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں