ڈیمز فنڈز کی رقم پر ججز اور سپریم کورٹ بھی قابل احتساب ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار
The news is by your side.

Advertisement

ڈیمز فنڈز کی رقم پر ججز اور سپریم کورٹ بھی قابل احتساب ہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد : چیف جسٹس نے واپڈا سےدیامیر بھاشا مہمندڈیمزکی تعمیرکا ٹائم فریم طلب کرلیا، عدالت نے ڈیمزکی رقم پرسپریم کورٹ اور ججز کوبھی قابل احتساب قرار دیتے ہوئے کہا ڈیم فنڈزکا ایک روپیہ بھی کسی اور کام پر خرچ نہیں ہوگا، ڈیم فنڈز سے پینسل خریدنے کی اجازت بھی عملدرآمد بینچ ہی دے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دیامیر بھاشا مہمند ڈیمز کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس ڈیم بننےکاعدالتی فیصلہ حتمی ہوچکاہے، فیصلے کیخلاف کوئی نظر ثانی درخواست نہیں آئی، ڈیم کی تعمیر کے جائزے کے لیے عملدرآمد بینچ تشکیل دیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا واپڈابتائے ڈیم کی تعمیر کے مراحل اور ٹائم فریم کیاہو گا، عملدرآمدبینچ ٹائم فریم کے مطابق کام کی تکمیل یقینی بنائے گا، ڈیم فنڈز کا ایک روپیہ بھی کسی اور کام پر خرچ نہیں ہوگا، ڈیمز فنڈز کی رقم پر ججز،سپریم کورٹ بھی قابل احتساب ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ڈیم فنڈز سے پینسل خریدنے کی اجازت بھی عملدرآمد بینچ دے گا، روپے کی قدر کم ہو رہی ہے،عدالت نہیں چاہتی ڈیم فنڈزکی رقم کی قدر کم ہو، اٹارنی جنرل عملدرآمد بینچ کے فوکل پرسن ہوں گے، ڈیم کی تعمیر کے لیے ٹنل کی تعمیر ضروری ہے، این ایچ اے بابو سر کے علاقے میں ٹنل تعمیر کرے گا۔

ڈیم فنڈز سے پینسل خریدنے کی اجازت بھی عملدرآمد بینچ ہی دے گا

اٹارنی جنرل نے بتایا ٹنل پر کام شروع ہوا لیکن مقامی عدالت نے اسٹے دے دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا ڈیم کی تعمیر میں جوبھی رکاوٹ آئے عدالت کو آگاہ کریں، فنڈز لینے کا مقصد ڈیمز کے لیے مہم شروع کرنا تھا۔

عدالت نے حکام سے استفسار کیا کہ ڈیم فنڈزکےلیے مزید کتنے پیسے درکارہیں آگاہ کیا جائے، پیسہ کیسے اور کہاں سے آئے گا یہ تفصیل بھی دی جائے، یا پیسہ بنانے کے لیے بانڈزجاری کرنے ہیں یا کمپنی بنانی ہے اور ٹنل کے لیے حکم امتناع کی تفصیلات دی جائیں۔

جسٹس فیصل عرب نے واضح کیا فنڈنگ کا بڑا حصہ وفاقی حکومت نے دینا ہے، ڈیم کی تعمیر کا کام نہیں رکنا چاہیے، اچھا مارک اپ ملے تو پیسہ بینک میں جمع کروایا جاسکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہدایات لیکر ٹائم فریم دیں، آگاہ کیاجائےہرسال پی ایس ڈی پی میں کتنی رقم مختص ہوگی، واپڈاکے مطابق 4 سے 6 ماہ میں ٹنل بن جائےگی،ٹنل بننے سے دیامر بھاشا ڈیم کا راستہ5 سے 6 گھنٹے کم ہوجائے گا۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے خدشہ ہے ٹنل کی تعمیرڈیم کے کام میں رکاوٹ نہ بنے، چیف جسٹس نے کہا سنا ہے جنوری میں مہمند ڈیم کی تعمیر شروع ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے دیامیر بھاشا مہمند ڈیمز کی تعمیر کے مراحل اور ٹائم فریم سے متعلق واپڈا سے تفصیل مانگ لی اور کیس کی سماعت 24دسمبر تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں