ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا، کس بات کا ٹیکس ہے ساراحساب دینا ہوگا، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

ٹیکس لگا لگا کر پاگل کردیا، کس بات کا ٹیکس ہے ساراحساب دینا ہوگا، چیف جسٹس

کراچی : پٹرولیم مصنوعات پرٹیکسوں کے معاملے پر چیف جسٹس  ثاقب نثار کا کہنا ہے ٹیکس لگا لگا کر پاگل کر دیا، کس بات کا ٹیکس ہے، ساراحساب دینا ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کاعمل مشکوک لگتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق سماعت ہوئی، میئر کراچی وسیم اختر سپریم کورٹ رجسٹری میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے قیمتوں کے تعین پر ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او کی بریفنگ پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری پٹرولیم، سیکریٹری وزارت توانائی چیئرمین ایف بی آر طلب کرلیا اور ایم ڈی پی ایس او اور دیگر حکام کو جمعے کے روز عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات، 6 ماہ کی بولی اور قیمتوں کے تعین کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس لگاکرپاگل کردیا،کس بات کا ٹیکس ہے سارا حساب دینا ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کاعمل مشکوک لگتا ہے، کس قانون اور طریقہ کے ذریعے62.8 روپے فی لیٹرکا تعین کیا گیا؟

عدالت میں موجودمیئر کراچی وسیم اختر نے اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیٹرول جس ریٹ پرپشاور کودیا جارہا ہے اسی پر کراچی کو دیا جارہا ہے، کراچی سے ٹرانسپورٹیشن چارجزکیوں وصول کیے جارہے ہیں؟جس پر چیف جسٹس نے کہا عوام کو ریلیف دینے بیٹھے ہیں،معاملے کا جائزہ لے کرحکم جاری کریں گے۔

ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ مختلف اداروں نے ہمارے300 ارب روپے دینا ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اداروں سے 300 ارب روپے کیوں واپس نہیں لے رہے، مطلب آپ بینکوں سے قرضہ لے کر معاملات چلا رہے ہیں۔

یعقوب ستار نے انکشاف کیا کہ بینکوں سے95 ارب روپے قرضہ لے رکھا ہے، ہرسال7 ارب سودکی مد میں جاتے ہیں،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اتنی بڑی رقم سود میں جارہی۔

سپریم کورٹ نے پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے لیے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ فیصل صدیقی اوگرا سے معاملے کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں