کوئی امتیازی سلوک جنس کی بنیاد پرنہیں ہونا چاہیے‘ چیف جسٹس -
The news is by your side.

Advertisement

کوئی امتیازی سلوک جنس کی بنیاد پرنہیں ہونا چاہیے‘ چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی نیب عالیہ رشید تقرری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست اس لیے سن رہے ہیں کیونکہ آپ قوم کی ہیروہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق ڈی جی نیب عالیہ رشید تقرری کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آپ کی پہلے ہی نظرثانی اپیل خارج ہو چکی، کیس میں کچھ نہیں، درخواست اس لیے سن رہے ہیں کیونکہ آپ قوم کی ہیرو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرممکن ہے توانہیں ان کے پیرنٹ ادارے میں ہی بھیج دیں، اس طرح سے میرے دفتر میں آ کرمت بیٹھا کریں، نیب پراسیکیوٹربہت شریف شخص ہیں۔

سابق ڈی جی نیب عالیہ رشید نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ میری ایک بیٹی بھی ہے اورمیں سنگل پیرنٹ ہوں، چیہف جسٹس نے کہا کہ اسی لیے کہہ رہے ہیں کہ آپ کی پنشن کا بھی حساب لگا لیتے ہیں۔

عالیہ رشید نے بتایا کہ ساتھی افسران کو زیادہ پنشن مل رہی ہے، مجھے 70 ہزار کی پیشکش نیب کرچکا ہے، مجھے بہت کم پنشن کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی امتیازی سلوک جنس کی بنیاد پرنہیں ہونا چاہیے، عالیہ رشید نے کہا کہ 15سال سے میں ایک ہی سرکاری ہوسٹل میں رہ رہی ہوں۔

سابق ڈی جی نیب نے بتایا کہ اگر مجھے سرکاری نوکری نہ ملی تو مجھے ہوسٹل چھوڑنا پڑے گا، 8 سال نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمنٹ میں کام کرچکی ہوں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق ڈی جی نیب عالیہ رشید تقرری کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں