ریلوے کی زمین ریلوے کی نہیں سرکارنے دی ہے‘چیف جسٹس -
The news is by your side.

Advertisement

ریلوے کی زمین ریلوے کی نہیں سرکارنے دی ہے‘چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں ریلوے اراضی کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریلوے وفاقی حکومت کا ایک محکمہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے ریلوے اراضی کی فروخت سے متعلق سماعت کی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ریلوے کی زمین ریلوے کی نہیں سرکارنے دی ہے، وفاق اورصوبے ان زمینوں کے مالک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کومخصوص مقاصد کے لیے زمین دی گئی، وکیل ریلوے نے کہا کہ ریلوے کے پاس زمین لیزپردینے کی اتھارٹی نہیں۔

سردار اسلم نے کہا کہ ہمیں بیان دینے کے لیے وقت چاہیے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب کیوں ساری چیزیں یاد آ رہی ہیں، پہلے اتنے سال سے کیا ہو رہا تھا۔

وکیل ریلوے نے کہا کہ ریلوے کے وزیرکہتے ہیں زمین بیچ کرخسارہ پورا کریں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے زمین فروخت کرنے کی صدرسے منظورکرالی جاتی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ :صدر مملکت کے پاس اختیارہی نہیں، درخواست گزار نے کہا کہ چکوال میں ریلوے کی زمین پرہاؤسنگ سوسائٹی بنا دی گئی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کیسے زمینیں فروخت کرسکتا ہے، ریلوے وفاقی حکومت کا ایک محکمہ ہے، ہمارا نظام خراب ہو رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں