The news is by your side.

Advertisement

ترکی، خواتین اراکین اسمبلی کے درمیان ہنگامہ آرائی، دو شدیدزخمی

انقرہ : ترک پارلیمنٹ کا آج ہونے والا اجلاس ہنگامے کی نذر ہوگیا، دورانِ اجلاس حکومتی اور اپوزیشن خواتین اراکینِ پارلیمنٹ کے درمیان ہونے والا بحث و مباحثہ تصادم کی صورت اختیار کر گیا جس کی وجہ سے دو اراکین پارلیمنٹ زخمی ہوگئیں جنہیں اسپتال لے جا کر طبی امداد دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ترک پارلیمنٹ میں آج ہونے والے اجلاس میں خواتین اراکین پارلیمنٹ ایک ترمیمی بل پر بحث ومباحثے کے دوران آپس میں الجھ پڑیں یہاں تک کہ بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جس کے نتیجے میں دو خاتون اراکین پارلیمنٹ زخمی بھی ہو گئیں جنہیں قریبی اسپتال میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

cat-fight-post-1

ہنگامہ آرائی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک خاتون رکن نے خود کو پارلیمنٹ کے روسٹروم سے ہتھکڑی کے ذریعہ باندھ لیا اور ترکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ترک صدر کو دیئے جانے والے خصوصی اختیارات پرتحفظات کا اظہار کرنے لگیں تاہم ڈپٹی اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے دو مرتبہ وقفہ لیتے ہوئے اجلاس معطل کیا یہاں تک کہ اس معاملے پر ہونے والی بحث ہی کو ختم کردیا۔

بعد ازاں اسمبلی میں وقفے کے دوران اپوزیشن کی خاتون رکن اسمبلی کو حکمراں جماعت کی خاتون پارلیمنٹ نے سمجھانے بجھانے اور صدر کو دیئے جانے والے اختیارات پر بات کرنے سے منع کرنے کی کوشش کی جب کہ ایک رکن پارلیمنٹ نے روسٹروم سے بندھے ہاتھوں کو آزاد کرنے کی کوشش کی جس پر اپوزیشن اور حکومتی خاتون اراکینِ پارلیمنٹ آپس میں گتھم گتھا ہو گئیں۔

cat-fight-post-2

اس دوران ڈپٹی اسپیکر اور دیگر اراکین اسمبلی نے معاملے کو سلجھانے کی بہت کوشش کی تاہم انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اس دوران ہونے والی ہاتھا پائی سے دو خاتون اراکین اسمبلی زخمی ہو گئیں جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جس پر اپوزیشن اراکین نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اسپیکر سے ایکشن لینے کی درخواست کی۔

ترک سے شائع ہونے والے اخبار حریت سے بات کرتے ہوئے ایک معذور خاتون رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ حکومتی اراکین پارلیمنٹ نے مجھے زمین پر دھکیلا اور دیگر اپوزیشن خواتین کے بال گھسیٹے زدوکوب بھی کیا گیا یہ رویہ کسی طور مناسب نہیں۔


*صدر کے اختیارات میں توسیع‘ترک پارلیمنٹ نے منظوری دے دی


دوسری جانب حکومتی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی ہنگامہ آرائی افسوسناک ہے یہ پارلیمنٹ کی روایات کے منافی اور غیر جمہوری رویہ ہے اس دوران ہماری ایک رکن اسمبلی میں زخمی ہوئیں جن کی کہنی ہر زخم آیا ہے اس لیے یہ کہنا کہ حکومت نے تشدد کی روش اپنائی غلط ہے۔

یاد رہے گزشتہ ایک ہفتے میں ترک پارلیمنٹ میں ہونے والے اس تیسری ہنگامہ آرائی سے ترک میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان جاری رسہ کشی اور تناؤ کی صورت حال صاف واضح ہو جاتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت سے کامیابی کے ساتھ سرخرو ہونے والی طیب اردگان کی حکومت کو ابھی بھی اپوزیشن کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں