The news is by your side.

Advertisement

ایئر کوالٹی انڈیکس کیسے کام کرتا ہے؟

پاکستان میں ایئر کوالٹی انڈیکس پر فضا میں بہتری کے اشارے ملے ہیں جس کی اصل وجہ ملک کے متعدد شہروں میں کرونا کی وبا کے باعث کیا گیا لاک ڈاؤن ہے۔

ملک بھر میں جہاں ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کم ہے، وہیں کارخانے اور دیگر صنعتوں میں بھی کام کم ہونے سے لاہور اور دیگر شہروں کی آب و ہوا میں بہتری دیکھی گئی ہے۔

عام دنوں میں ہماری فضا جہاں گرد و غبار سے آلودہ ہوتی ہے، وہیں اس میں مختلف کیمیائی عناصر، گیس، کثیف ذرات اور دھواں شامل ہوتا رہتا ہے جس کی تعداد اور مقدار کو ناپنے اور جانچنے کے مختلف طریقے اور معیار ہیں۔

ہوا میں ان مادّوں کے تناسب کی سائنسی طریقے سے جانچ کے بعد ہی فضائی آلودگی کے بارے میں حتمی رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

اس پیمانے کو ایئر کوالٹی انڈیکس کہا جاتا ہے جس کے کام کرنے کا طریقہ اور اُن اعداد و شمار کو جاننے کی ضرورت ہے جن کی بنیاد پر فضائی آلودگی میں کمی یا زیادتی کی رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

فضائی آلودگی کا تناسب جاننے کے لیے موجود نظام میں ایک ایسا آلہ شامل ہے جو تھرما میٹر کی طرح کام کرتا ہے۔

اس میں پیمائش کے درجے صفر سے پانچ سو ڈگری تک ہوتے ہیں۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ ہوا کا جائزہ لیتے ہوئے اگر اس پیمانے پر صفر سے پچاس ڈگری تک نتائج سامنے آئیں تو ہم اسے ہوا یا ہماری فضا میں گیسوں کا درست تناسب تصور کرتے ہیں۔

اگر کسی وجہ سے یہ تناسب پچاس سے سو درجے تک ہو تو کہا جائے گا کہ گیسوں کی مقدار نارمل سے زیادہ ہے، لیکن ماہرین کے نزدیک یہ زمین پر موجود حیات کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتی۔

سائنس دانوں کے مطابق ہوا میں گیسوں کا تناسب سو سے ڈیڑھ سو کی حد تک پہنچ جائے تو ان لوگوں کے لیے ضرور مسئلہ ہوسکتا ہے جو کسی بھی قسم کی الرجی اور جسمانی کم زوری کا شکار ہوتے ہیں، اسی طرح یہ تناسب بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

اگر یہ تھرمامیٹر یا مخصوص سسٹم پر ہوا میں کثافت کا تناسب 150 سے 200 تک جارہا ہو تو یہ ماحول کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں