The news is by your side.

Advertisement

ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اطالوی دارالحکومت میں شدید احتجاج

روم : اٹلی کے دارالحکومت روم میں سویڈش ٹین ایجر گریٹا تھون برگ کی قیادت میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔

تفصیلات کے مطابق اطالوی دارالحکومت روم میں موسمیاتی تبدیلی کےلیے کام کرنے والے رضاکاروں نے دنیا میں پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے شہریوں میں شعور اجاگر کرنے اور مقتدر اداروں کے خلاف اقدامات نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں کئی کم عمر اور ٹین ایجر بچوں کے ساتھ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ بھی شریک ہوئے، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف یہ مظاہرہ فرائیڈیز فار فیوچر سلسلے میں کیا گیا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے گریٹا تھون برگ کا کہنا تھا کہ زمین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

منتظمین نے دعویٰ کیا کہ اس احتجاج میں پچیس ہزار کے قریب لوگ شریک ہوئے، اس مظاہرے میں بعض مقررین نے اطالوی نائب وزیراعظم ماتیو سالوینی اور اُن کی سیاسی جماعت لیگ کے ماحولیات کے بارے میں خیالات پر کڑی نکتہ چینی بھی کی۔

مزید پڑھیں : برطانیہ میں‌ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے مظاہرے، 300 افراد گرفتار

واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف یورپ بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے  کہ گزشتہ چار روز سے برطانوی دارالحکومت لندن میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے مظاہرے جاری ہیں جبکہ پولیس نے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

خیال رہے کہ 15 سالہ گریٹا تھنبرگ نے کلائمٹ چینج کے خلاف ٹھوس پالیسی اپنانے پر مجبور کرنے کے لیے گزشتہ برس اگست سے اپنا احتجاج شروع کیا تھا۔ وہ 3 مہینے تک اپنا اسکول چھوڑ کر روزانہ پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کرتی رہی۔

انتخابات کے بعد بھی اس کا احتجاج ختم نہیں ہوا، اب وہ ہر جمعے کے روز اسکول سے چھٹی کر کے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتی دکھائی دیتی۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارا مستقبل اسکول نہیں، اگر زمین کو نہ بچایا گیا تو نہ اسکول رہیں گے اور نہ اسکول جانے والے۔

یہ بھی پڑھیں : گریٹا کا نام نوبیل انعام کے لیے تجویز

گزشتہ روز نارویئن حکام نے گریٹا کو نوبیل انعام دینے کی تجویز بھی پیش کردی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ناروے کے ایک رکن پارلیمنٹ فریدی اینڈرے کا کہنا تھا کہ اگر ہم کلائمٹ چینج کو نہیں روکیں گے تو یہ جنگوں، تنازعوں اور لوگوں کو بے گھر کرنے کا سبب بنے گی۔ گریٹا نے دنیا کے امن کو قائم رکھنے کے لیے ایک بڑی تحریک شروع کی لہٰذا وہ امن کے نوبیل انعام کی حقدار ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں