The news is by your side.

Advertisement

موسمیاتی تبدیلی : آنے والی گرمی کتنی خوفناک ہوگی؟ خطرے کی گھنٹی بج گئی

دنیا بھر میں ہونے والے کلائمٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کی وجہ سے طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہیاں مچائی ہوئی ہیں تو دوسری جانب مستقبل قریب میں گرمی کی شدت میں بے تحاشا اضافہ ہونے کا بھی قوی امکان ہے جو عوام کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ موسمیاتی تبدیلی کا ہی نتیجہ ہے کہ طاقتور اور بہت بڑے طوفان ہمارے ساحلی علاقوں کو برباد کر رہے ہیں، جنگل کی آگ آبادیوں کو راکھ کا ڈھیر بنارہی ہے اور سیلاب اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو غارت کر رہے ہیں لیکن ان میں ایک نسبتاً نیا اضافہ شدید ترین گرمی کا ہے۔

جون کے مہینے میں جہاں پاکستان اور بھارت میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑ رہی تھی، وہیں دنیا کے ایسے ممالک بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں آگئے جہاں عموماً درجہ حرارت بہت زیادہ نہیں ہوتا، مثلاً کینیڈا کہ جہاں حرارت پیما آلات تاریخ کی بلند ترین سطح پر گئے اور سینکڑوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

گرمی تو ہر سال پڑتی ہے لیکن گرمی کی یہ نئی لہریں کس طرح ماضی سے مختلف ہیں اور اتنی زیادہ ہلاکت خیز کیوں ہیں؟ اس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی ہے۔

اگر ہم اپنی گاڑیوں میں ایسے ہی ایندھن پھونکتے رہے، اپنے بجلی گھروں کو چلانے کے لیے کوئلے اور گیس کا استعمال ایسے ہی کرتے رہے، اپنے سیمنٹ کے کارخانوں میں چونے کے پتھر کا بے دریغ استعمال کرتے رہے اور مختلف مقاصد کے لیے دنیا کے اہم ترین جنگلات کو کاٹتے رہے تو درجہ حرارت ہر آنے والے سال میں بڑھتا ہی رہے گا اور بالآخر یہ انسان کی برداشت سے باہر ہو جائے گا۔

بلاشبہ خشک گرمی اور مرطوب گرمی میں فرق ہوتا ہے، مثلاً اگر کوئٹہ میں آپ کو پانی میسر ہے اور دھوپ سے بچنے کے لیے سائے میں بیٹھے ہیں تو درجہ حرارت 45 درجہ سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جائے، تب بھی ایک عام انسان گھنٹوں تک گرمی برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن کراچی میں داستان کافی مختلف ہوگی۔

یہ ساحل کے قریب موجودگی کی وجہ سے بہت مرطوب علاقہ ہے یعنی یہاں ہوا میں نمی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور اگر درجہ حرارت 45 درجہ سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تو یہاں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہم نے چند سال پہلے دیکھا تھا، جب 20 جون 2015کو شہر کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا تھا اور تقریباً 1500 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ہی درجہ حرارت دو مختلف علاقوں میں کس طرح مختلف نتائج برآمد کر سکتا ہے؟ دراصل مسئلہ درجہ حرارت کا ہے ہی نہیں، بلکہ ہوا میں نمی کا تناسب بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کل “ویٹ بلب ٹمپریچر” پر زور دیا جا رہا ہے جس میں نہ صرف درجہ حرارت ہوا میں نمی کے تناسب، ہوا کی رفتار، سورج کے زاویے اور شمسی تابکاری کی شدت کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔

ویٹ بلب ٹمپریچر کیا ہے؟

انسانی جسم کا عام درجہ حرارت 97 سے 99 ڈگری فارن ہائٹ ہوتا ہے یعنی 36 سے 37 ڈگری تک۔ جب باہر کا درجہ حرارت اس سے زیادہ ہو جاتا تو ہمارا جسم پسینہ پیدا کرتا ہے جو آبی بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہ عمل توانائی طلب کرتا ہے جو ہمارے جسم کی گرمی سے ہی آتی ہے۔ بہرحال، پسینہ آبی بخارات میں تبدیل ہو جائے تو اس سے ہمارا جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

خشک گرمی اس لیے نسبتاً بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس میں آبی بخارات بننے کا عمل اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ بسا اوقات ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہماری جلد پر پسینہ موجود بھی ہے یا نہیں۔

اس کے مقابلے میں مرطوب موسم میں فضا میں پہلے ہی آبی بخارات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اگر اس صورت حال میں درجہ حرارت بہت بڑھ جائے تو پسینہ بخارات میں تبدیل ہونے کے بجائے جسم ہی پر جمع ہوتا رہتا ہے۔

اس صورت حال میں بالآخر جسم گرمی کو خارج کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے اور ارد گرد کے درجہ حرارت تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمارا جسم کا معمول کا درجہ حرارت 98 درجہ فارن ہائٹ ہوتا ہے اور اگر یہ 108 درجے تک پہنچ جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔

اس لیے محض درجہ حرارت ہی جان لینا کافی نہیں کہ موسم انسانی جسم کے لیے قابلِ برداشت ہے یا نہیں۔ اس کے لیے آپ کو “ویٹ بلب ٹمپریچر” جاننا ہوگا۔

تحقیق کے مطابق اِس صدی کے وسط تک دنیا کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت انسانی برداشت سے بڑھ جائے گا۔ 2050ء تک یعنی صرف 30سال میں کئی علاقوں میں گرمی میں درجہ حرارت اس سطح پر پہنچ جائے گا کہ جس میں انسانی جسم کے لیے خود کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنا ناممکن ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں