The news is by your side.

Advertisement

دنیا کے طویل ترین درختوں کا کلون تیار کرنے کے لیے مہم جوئی

دنیا بھر کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ دنیا کو خطرناک موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کے اثرات سے کیسے بچایا جائے۔ اس کے لیے نہ صرف مختلف عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں بلکہ دنیا کو اس جانب متوجہ کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔

اسی طرح کی ایک کوشش امریکا میں کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے بھی کی جو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر دنیا کے طویل ترین درختوں پر چڑھے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج کی طرف توجہ دلانے کے لیے پیانو کی پرفارمنس

ان کا مقصد ان نادر و نایاب درختوں کا کلون تیار کرنا ہے۔

clone-3

دنیا کے یہ طویل ترین درخت امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ہیں جنہیں سیکوئیا ریڈ ووڈز کہا جاتا ہے۔ ان کی عمومی قامت 300 فٹ یا 91 میٹرز ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ اپنے اندر بے تحاشہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان درختوں کی عمر بھی کئی ہزار سال ہے اور اس دوران یہ مختلف آتش زدگیوں، خشک سالیوں اور بیماریوں کو جھیل چکے ہیں اس کے باوجود یہ قائم رہے۔

امریکا میں درختوں کے تحفط کے لیے کام کرنے والے ادارے ’آرک اینجل اینشینٹ ٹری آرکائیو‘ کے بانی ڈیوڈ کلارک کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ قدم بہت تاخیر سے اٹھایا ہے اور ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ’ان قدیم اور طویل ترین درختوں کی جینیات اکٹھی کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کو محفوظ کیا جائے اور دوبارہ کام میں لایا جائے‘۔

clone-2

ادارے کے ایک اور رکن جیکب ملر کا کہنا ہے کہ ان درختوں کی جینیات میں کوئی ایسی خاصیت موجود ہے جو سینکڑوں سال سے موسمیاتی تغیر اور گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت میں اضافے کے اثرات کو برداشت کر سکتی ہے اور ان کے خلاف مزاحمت کر سکتی ہے۔

اس پروجیکٹ کے لیے کوہ پیماؤں نے ان درختوں پر چڑھ کر ان کی ٹہنیاں اور پتے حاصل کیے۔ اس کے بعد ان کو مشی گن کی ایک لیبارٹری میں لے جایا گیا اور وہاں ان کو دوبارہ زمین میں بویا گیا۔ یہ پودے اب کچھ ہی عرصہ میں جڑ پکڑ لیں گے اور اس کے بعد ان کی افزائش شروع ہوجائے گی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس درخت کے 3 لاکھ کلون بوئے ہیں اور وہ اس سلسلے کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

clone-4

واضح رہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے خطرات سے نمٹنے کا آسان حل ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت اگائے جائیں۔ یہ ان علاقوں کے لیے اور بھی ضروری ہے جو کلائمٹ چینج کے باعث شدید موسموں جیسے ہیٹ ویو کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: ہیٹ ویو سے مطابقت کیسے کی جائے؟

پاکستان کی معاشی رگ شہر کراچی پچھلے 2 سال سے ہیٹ ویو برداشت کررہا ہے اور اس کے باعث درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، تاہم ابھی تک شجر کاری کے کسی سنجیدہ اور طویل المدت منصوبے پر کام نہیں کیا گیا جو کراچی کے شہریوں کو شدید گرمی سے بچا سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں