The news is by your side.

انڈونیشی شہری شادیوں کی سنچری سے قریب، دلچسپ کہانی اسی کی زبانی

انڈونیشیا کا 61 سالہ شہری اب تک 87 بار دولہا بن چکا ہے، شادی کی سنچریوں کے قریب جواں دل شخص جلد 88 ویں شادی کرنےکا خواہشمند ہے، دلچسپ کہانی اسی کی زبانی سنیے۔

شادی کو محاورے میں وہ ’’لڈو‘‘ کہا جاتا ہے کہ جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے، اب یہ بات کتنی درست ہے اس حوالے سے اعداد وشمار تو نہیں لیکن دنیا میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے جو اس لڈو کو بار بار کھانے کی خواہش رکھتی ہے اور اس پر عمل کر بھی گزرتی ہے۔

شادیوں کا ایسا ہی شوقین انڈونیشیا کا ایک شہری ہے جس کی عمر اس وقت 61 سال ہے مگر دل جوان ہے تب ہی تو وہ 87 شادیاں کرچکا ہے اور جلد 88 ویں بار سر پر سہرا سجانے کی تیاری کر رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شادیوں کے خواہشمند اس جواں دل شخص کا تعلق انڈونیشیا کے مغربی جاوا خطے سے ہے اور اس کا نام قان ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک 87 شادیاں کرچکا ہے جب کہ اب وہ اپنی سابقہ اہلیہ سے 88 ویں شادی کرنے کا خواہشمند ہے۔

رپورٹ کے مطابق قان اب تک 46 خواتین کے ساتھ شادی رچا چکے ہیں تاہم ان کی شادیوں کی تعداد 87 تک اس طرح پہنچی ہے کہ اس میں متعدد شادیاں انہوں نے اپنی سابقہ بیویوں سے کی ہیں۔

اس انڈونیشی شخص کی کہانی اس وقت منظر عام پر آئی جب انہوں نے اپنی آپ بیتی ایک یوٹیوبر کو سنائی تھی۔

مقامی میڈیا نے جب قان سے انٹرویو کرنے کے لیے رابطہ کیا تو پہلے اس نے پس وپیش سے کام لیا اور یہ کہتے ہوئے منع کردیا کہ وہ اس معاملے میں مزید انٹرویو نہیں دینا چاہتا، تاہم رپورٹرز کے بے حد اصرار پر قان نے اپنی شادیوں کی دلچسپ داستان سنائی۔

قان کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی شادی 14 برس کی عمر میں اپنے سے دو برس چھوٹی لڑکی سے کی تھی تاہم یہ شادی صرف دو برس ہی چل سکی تھی لیکن ازدواجی زندگی کی پہلی ناکامی سے وہ مایوس نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے نئے سفر کے لیے نئے ہمسفر کو تلاش کیا اور اس کے بعد سے یہ سلسل جاری ہے۔

قان کا اپنی ان درجنوں شادیوں کے حوالے سے توجیح پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری ان شادیوں کی وجوہات یہ ہیں کہ میں کسی خاتون کے جذبات کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتا تھا، لہٰذا میں نے سوچا کے بے حیائی کا کام کرنے سے بہتر ہے کہ میں شادی کرلوں۔

 

قان کے مطابق اس کی شادیوں میں سے سب سے طویل عرصے تک چلنے والی شادی 14 برس تک چلی جبکہ کچھ شادیاں صرف ایک ماہ اور ایک شادی صرف ایک ہفتے ہی چل سکی تھی۔

قان نے بتایا کہ ان کی 87 شادیوں میں سے 40 صرف وزارت مذہبی امور کے پاس رجسٹرڈ ہیں، جبکہ باقی شادیاں روایتی انداز میں ہوئی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں