ہفتہ, اپریل 5, 2025
اشتہار

کے پی حکومت کسی بھی افغان شہری کو زبردستی واپس نہیں بھیجےگی، علی امین گنڈاپور

اشتہار

حیرت انگیز

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی افغان شہری کو زبردستی واپس نہیں بھیجےگی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی سےمتعلق ہماری پالیسی بالکل واضح ہے کہ انہیں بے سرو سامانی کی حالت میں نہیں بلکہ اپنی روایت کے مطابق با عزت طریقے سے واپس بھیجیں گے۔ فغان حکومت جب تک مہاجرین کو لینے کیلیے تیار نہیں ہوتی ہم انہیں واپس نہیں بھیجیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کہ کسی کو اٹھا کر ایسے ہی پھینک دیا جائے۔ ہم نے صوبے میں کیمپس لگائے ہیں،رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کو بھیجا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کیساتھ تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا، خطے میں امن نہیں ہوگا۔ ہم نے وفاقی حکومت کو افغانستان سے بات چیت کے لیے ٹی او آرز دیے تھے، اس کو بھی دو سے تین ماہ ہوگئے مگر اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنےشہریوں کو تحفظ دیں، لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔ اس کا اندازہ دہشتگردی کے واقعات پر وفاقی حکومتی ارکان کے بیانات دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم اپنی افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے ساتھ ہیں۔ کرک میں حملہ ہوا تو عوام نکلے اور دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ عوام اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے بھی ہوں گے اور دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے، مگر دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے کے لیے لوگوں کے دل جیتنا ہوں گے۔ میری اپیل ہے کہ ہر معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔ہم نے ورکنگ شروع کی ہوئی ہے اور اس کے اچھے نتائج آ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ ہتھیار اٹھانے والوں سے نمٹنےکی وفاقی حکومت کی حکمت عملی ٹھیک نہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمارے لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے۔ہوسکتا ہے کہ ہماری غلطیاں یا پالیسی کے مسائل ہوں۔ اب اگر ہمارے لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں تو ان سے بات کرنی چاہیے۔

علی امین گنڈاپور کے مطابق کرم میں حالات اب بہتر ہیں۔ سیز فائر ہوچکا ہے۔ وہاں بنکرز کا خاتمہ کر رہے ہیں، روڈ کو بحال کر دیا ہے اور کیمرے لگانے کے ساتھ چیک پوسٹیں بھی بنا رہے ہیں۔ 30 ارب روپے پولیس اور سی ٹی ڈی کو دیے ہیں، مزید فنڈز بھی دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ہم نے صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کیا ہوا ہے۔ کے پی میں جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہوتا ہے۔

31 مارچ کے بعد غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو گرفتار کر کے ملک بدر کیا جائے گا، بڑا فیصلہ

واضح رہے کہ وفاقی حکومت غیر قانونی مقیم افغانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کو 31 مارچ تک اپنے وطن واپسی کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے این ایف سی ایوارڈ کیلیے سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دے دی

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں