The news is by your side.

Advertisement

سہون دھماکا: ملزمان کہاں‌ سے آئے؟ شواہد مل گئے،وزیراعلیٰ‌ کو بریفنگ

کراچی: سندھ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سانحہ سہون میں ملوث ملزمان سے متعلق اہم شواہد مل گئے، ملزمان کی جلد گرفتاری کا امکان ہے،حکام نے سندھ بھر کی درگاہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ اور جاں بحق افراد کے لواحقین و زخمیوں کی مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبے بھر میں امن و امان سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سانحہ سہون سے متعلق اہم گفتگو ہوئی، وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی اور متعدد فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی،کمشنر قاضی شاہد، ڈی آئی جی حیدر آباد خادم حسین سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں کے افسران نے شرکت کی، سانحے کے بعد کی صورتحال اور ملزمان کے خلا ف کارروائی پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ درگاہ میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی آہیں اور سسکیاں دل و دماغ میں گھوم رہی ہیں،اس کیس کو ہر صورت حل ہونا چاہیئے،جب تک مجرموں کو نہیں پکڑا جائے گا سکون نہیں ملے گا، نتیجہ خیز کارروائیاں کی جائیں۔

انہوں نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ سے عقیدت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ درگاہ ہر مذہب اور فرقے کے لوگوں کو جوڑ کر رکھتی ہے۔

اجلاس میں پولیس حکام نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ سانحے میں ملوث ملزمان سےمتعلق اہم شواہد مل گئے ہیں جلد اصل ذمہ داروں تک پہنچ جائیں گے، سہون اور سکھر سے اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ سانحہ شکار پور اور سانحہ سہون کے ملزمان سندھ کے جنوب سے صوبے میں داخل ہوئے، سانحہ شکار پور کی طرح ان ملزمان کو بھی جلد قانون کے شکنجے میں لے آئیں گے۔

اہم درگاہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے اہم درگارہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہر درگاہ پر ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا جائےگا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے ارباب چانڈیو نے بتایا کہ اجلاس میں سندھ بھر میں موجو درگاہوں کی سیکیورٹی کے معاملے پر گفتگو ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ اہم درگارہوں پر کیمرے نصب کیے جائیں گے جس کی ہدایت جاری کردی گئی ان کیمروں سے مانیٹرنگ کے لیے ہردرگاہ میں ایک کنٹرول روم بھی قائم ہوگا۔

درگاہوں کے لیے سرچنگ ملازمین کی بھرتی کا فیصلہ

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ اوقاف میرٹ کی بنیاد پر ہردرگاہ کے لیے سرچنگ ملازمین کو بھرتی کرے گا جس کا حکم جاری کردیا گیا، ان کی تربیت سندھ پولیس کرے گی جو بعد میں درگاہوں پر جا کر ڈیوٹی کریں گے، فیصلہ کیا گیا کہ جن مزارات پر ان پولیس اہلکار کی ڈیوٹی ہوگی اس کا تبادلہ نہیں ہوسکے گا۔

درگاہ کی بجلی دوبارہ بحال کرائی جائے، وزیراعلیٰ برہم

شرکا کو درگاہ کی منقطع شدہ بجلی کے متعلق بتایا گیا کہ درگاہ کی بجلی دوبارہ بحال کی جائے گی، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں نے فائدہ اٹھایا دھماکے وقت وہاں بجلی نہیں تھی، حیسکو نے 4 کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی پر بجلی بند کردی تھی جسے بحال کرایا جائےگا جس پر مراد علی شاہ نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ حیسکو بجلی نہیں کاٹ سکتی، سندھ حکومت سرکاری بجلی کا پورا بل وفاق سے سیٹل کر چکی ہے۔

اسی سے متعلق: سہون: درگاہ کی بجلی چوری، بل 4 کروڑ تک پہنچ گیا

شرکا نے اتفاق کیا کہ تمام مساجد، مندروں اور گرجا گروں کی سیکیورٹی کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جائےگا اور ان کی سیکیورٹی بھی بڑھائی جائے گی۔

ہلاکت کے عوض 15 اور شدید زخمی کو 10لاکھ روپے امداد کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے سانحے کے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کردیا، اعلان کے مطابق جاں بحق شخص کے لواحقین کو 15 لاکھ روپے دیے جائیں گے جب کہ شدید زخمی کو 10 لاکھ اور زخمی کو 5 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو معاوضہ بلا تفریق دیا جائےگا، شہید یا زخمی کسی اور صوبے کا ہے تو تب بھی اسے معاوضہ دیا جائے گا، زندگی واپس تو نہیں دے سکتا لیکن ورثا کی مالی مدد کرسکتا ہوں۔

ایس ایس پی جامشورو کو تبدیل کردیا گیا

دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر ایس ایس پی جامشورو کو برطرف کردیا گیا اور ان کی جگہ تنویر اوڈھو کو ایس ایس پی جامشورو مقرر کردیا۔

واقعے کا مقدمہ درج، تحقیقات سی ٹی ڈی کے حوالے

دریں اثنا دھماکے کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کرلیا گیا، سانحہ کی تحقیقات سی ٹی ڈی کے حوالے کردی گئیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں