The news is by your side.

Advertisement

وکلا کی ہنگامہ آرائی ، وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہنگامہ آرائی کرنےوالے وکلا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی وکلا کی ہنگامہ آرائی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے  وکلا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب انسی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی وکلا کی ہنگامہ آرائی کی شدیدمذمت کرتے ہوئے راجہ بشارت کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہیں، یاسمین راشد،آئی جی پی،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری اسپیشلائزڈہیلتھ اینڈمیڈیکل ایجوکیشن کمیٹی میں شامل ہیں۔

کمیٹی وکلا کی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرے گی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلا کا تعین کرے گی۔

عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ہنگامہ آرائی کرنےوالوں کےخلاف بلاامتیازکارروائی ہوگی، قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، اسپتال میں انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلا کے خلاف سخت کارروائی کا بھی حکم دے دیا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا اسپتال میں ہنگامہ آرائی کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، انتظامیہ کو قانون ہاتھ میں لینےوالوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی، پی آئی سی واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا کی ہنگامہ آرائی کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور،سیکریٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ ایجوکیشن سےرپورٹ طلب کرلی تھی۔

مزید پڑھیں : وکلا نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول دیا

یاد رہے ایک ویڈیو کے تنازع پر وکلا آپےسےباہرہوگئے ، وکلاء کی بڑی تعداد پنجاب انسی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی کادروازہ کھواکراندرداخل ہوگئی اور توڑ پھوڑشروع کردی جبکہ پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں تہس نہس کردیں گئیں۔

حملہ آور وکلا نے آپریشن تھیٹرزکو بھی نہ بخشا، کشیدہ صورتحال کےباعث آپریشن رک گئے ، اس دوران 6 مریض جان کی بازی بھی ہار گئے، ہنگامہ آرائی کےآدھے گھنٹےتک پنجاب انتظامیہ لاپتہ رہی۔

وزیرصحت یاسمین راشد پہنچیں لیکن وکلا نے ان سے مذاکرات سے انکار کردیا اور ایک گھنٹے بعد پولیس ایکشن میں آئی اور وکلاء کو منتشر کرنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں