سندھ اسمبلی میں نیا احتساب بل کثرت رائے سے منظور -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ اسمبلی میں نیا احتساب بل کثرت رائے سے منظور

کراچی: سندھ اسمبلی نے انسداد بدعنوانی بل 2017 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اپوزیشن نے بل کو مسترد کرتے ہوئے کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی صدارت میں ہوا۔

اجلاس میں سینیئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے سندھ احتساب ترمیمی بل 2017 ایوان میں پیش کیا جسے متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کرلیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتساب بل کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور 3 صوبوں کے قانون کے متصادم احتساب بل بنانے کا صوبائی اسمبلی کو اختیار نہیں ہے۔

اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد اس کی عدم موجودگی میں ہی بل کی منظوری دے دی گئی۔

مزید پڑھیں: سندھ اسمبلی میں نیب آرڈیننس منسوخی کا بل منظور

بل کی منظوری کے بعد اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نیب کے متبادل نظام لانا حکومت کا اختیار ہے کیونکہ خیبر پختونخواہ میں بھی عدالت نے احتساب کمیشن بنانے کی اجازت دے رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر محمد زبیر کی جانب سے نیب کی منسوخی کا بل مسترد کیے جانے کے بعد اسمبلی بل کو دوبارہ پاس کر چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق سندھ احتساب کمیشن کے سربراہ کا تقرر ایک کمیٹی کرے گی جبکہ کمیٹی میں اسپیکر اور اپوزیشن ارکان بھی شامل ہوں گے اور احتساب کمیشن کے چیئرمین کے کام میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ نیب نے ٹریکٹر اسکیم کو کلین چٹ دی لیکن اس میں غبن ثابت ہوا جبکہ آر او پلانٹس کو نیب نے کلین چٹ دی ہوئی ہے۔ نیب کسی چیز پر ہاتھ ڈال دے تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں: نیب قوانین کے خاتمے کے بل پر گورنر سندھ کے اعتراضات

ایوان سے منظور کیے گئے مذکورہ انسداد بدعنوانی بل کے تحت صوبے میں کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کے قیام کے لیے صوبائی احتساب ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کی نگرانی کا اختیار سندھ اسمبلی اسپیکر کی سربراہی میں تشکیل کردہ پارلیمانی کمیٹی کو ہوگا۔

کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے 3، 3 ارکان ہوں گے۔ چیئرمین کی تقرری میں اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کی صورت میں حتمی فیصلی اسپیکر کریں گے۔

نئے قانون کے مطابق احتساب بورڈ بھی تشکیل دیا جائے گا جس کے چیئرمین کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔ 21 گریڈ سے اوپر کا افسر یا ریٹائرڈ جج صوبائی احتساب بورڈ کا چیئرمین تعینات کیا جائے گا۔

قانون کے تحت صوبے بھر میں احتساب عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ کرپشن میں ملوث پائے جانے والوں کو 5 سے 10 برس قید اور 5 برس کے لیے نااہل قرار دینے کی سزا کا بھی تعین کیا گیا ہے جبکہ نئے قانون کے تحت بورڈ کو پلی بار گیننگ کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

بل کے ایکٹ کی شکل اختیار کرنے کے بعد اینٹی کرپشن کورٹ میں جاری تمام مقدمات احتساب بورڈ کو منتقل ہوجائیں گے۔

بل کی منظوری کے بعد اجلاس کل تک ملتوی کر دیا گیا۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں