The news is by your side.

Advertisement

اسکول کے پول میں بچے کی ہلاکت: وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نجی اسکول کے سوئمنگ پول میں بچے کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا، انہوں نے کمشنر کراچی، ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکول سے الگ الگ رپورٹیں طلب کرلی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں حبیب ایجوکیشن سینٹر کے سوئمنگ پول میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے بچے کی ہلاکت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دی۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے دریافت کیا کہ واقعہ کیسے پیش آیا؟ بچہ سوئمنگ کررہا تھا یا گر کرجاں بحق ہوا؟ رپورٹ تمام پہلوؤں کو دیکھ کر تیار کی جائے۔

اس حوالے سے ایس ایس پی مقدس حیدر نے صحافیوں کو بتایا کہ عثمان کو سوئمنگ پول میں غوطے کے فوری بعد نکالنے کا بیان غلط ہے، انسٹرکٹر نے عثمان کو3سے5سیکنڈ میں باہر نکالنے کا بتایا تھا، عثمان کو ڈوبنے کے تقریباً4سے5منٹ بعد باہر نکالا گیا، جس وقت عثمان ڈوبا اس وقت کوئی انسٹرکٹر موجود نہیں تھا۔

ایس ایس پی نے مزید کہا کہ بچے کے ڈوبنے کی اطلاع پولیس کو نہیں دی گئی، اسکول انتظامیہ نے بغیر پولیس کو اطلاع دیے بچے کو اسپتال منتقل کیا، بچے کو جب اسپتال منتقل کیا گیا وہ جاں بحق ہوچکا تھا، ابھی تک پولیس نےباقاعدہ تفتیش کاآغازنہیں کیا۔

واضح رہے کہ کراچی کے نجی اسکول کا سوئمنگ پول ننھے طالب علم کی زندگی نگل گیا، حادثہ پی آئی ڈی سی کے قریب واقع کیمپس میں پیش آیا، 11 سالہ طالب علم عثمان چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔

طالب علم عثمان کی لاش ساؤتھ سٹی اسپتال منتقل کردی گئی۔ پولیس نے نجی اسکول کے دو سوئمنگ ٹرینرز کو حراست میں لے لیا، زیر حراست ٹرینر کے مطابق عثمان سوئمنگ چیمپئن تھا۔

زیر حراست ٹرینر کا کہنا ہے کہ عثمان نے ڈائیو ماری اور 5 سے 6 سیکنڈ تک اوپر نہیں آیا، سوئمنگ پول میں جاکر عثمان کو پانی سے اوپر لے کر آئے اور فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا۔

مزید پڑھیں: کراچی، نجی اسکول کے سوئمنگ پول میں طالب علم ڈوب کر جاں بحق

پولیس نے دو سوئمنگ انسٹرکٹرز کو حراست میں لے لیا اور والد کی مدعیت میں پرنسپل، انتظامیہ اور دو سوئمنگ انسٹرکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں