سندھ : وزیراعلی سندھ کی صدارت میں سرکلر ریلوے کے معتلق اجلاس -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ : وزیراعلی سندھ کی صدارت میں سرکلر ریلوے کے معتلق اجلاس

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت سرکلر ریلوے کے تعمیراتی منصوبے کے حوالے سے اجلاس معنقد ہوا. اجلاس میں وزیراعلیٰ کو منصوبے اور سرکلرریلوے کی زمین پر قبضے کےمتعلق بریفنگ دی گئی۔

کراچی کے بے شمار مسائل میں سے ایک مسئلہ پبلک ٹرانسپوٹ کا فقدان اوراس کی ناقص صورتحال بھی ہے جس کا فوری حل ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابقصوبائی حکومت شہر کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکلر ریلوے کا قیام عمل میں لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں آج صبح وزیراعلیٰ ہاوس میں مراد علی شاہ کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو منصوبے کے تخمینے اورتجاوازت کے حوالے سے بریف کیا گیا۔

ڈی ایس ریلوے کے مطابق سرکلرریلوے کا منصوبہ 2 ارب 60 کروڑ ڈالر کا ہے. جس کے لئے 67 ایکڑزمین مختص کی گئی ہے . جس کی لمبائی 43 کلو میٹر سے زائد ہے جبکہ سرکلر ریلوے کے لئے 360 ایکڑ زمین کی ضرورت ہے۔

ڈی ایس ریلوے نے وزیراعلیٰ سندھ کو مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکلر ریلوے کے لئے مختص کی گئی زمین کو قبضہ مافیا نے اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی سے جامعہ کراچی تک سوا چارایکڑ، لیاقت اآباد سے گیلانی اسٹشین تک ڈھائی ایکڑ سے زائد ، اورنگ نالے سے ناظم آباد سے ڈیرھ ایکڑ، وزیر مینشن سے بلدیہ تک اور اورنگ نالے کے پاس 2 ایکڑ ، وزیر مینشن کے قریب 29 ایکڑ سے زائد زمین پرقبضہ مافیا قابض ہے۔

ڈی ایس ریلوے کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس روٹ پر 2 ہزار 997 دیگر اقسام کے قبضے بھی ہیں‘ اجلاس میں وزیراعلی سندھ کو تجویز دی گئی کہ تجاوزات ہٹانے کے لئے 5 ہزار 653 گھروں کو گرانا ہوگا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے تجاوزات کے حوالے سے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دیں. انہوں نے کمشنر کو حکم دیا کہ وہ خود ڈی سی کے ہمراہ جاکر صورتحال کاجائزہ لیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں