The news is by your side.

Advertisement

‘سندھ میں بیٹھے سیاسی یتیموں کے کہنے پر فیڈریشن کےافسران کو شوکاز جاری ہوتے ہیں’

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خبردار کرتے ہوئے کہا جھگڑا میرے اور سندھ حکومت کیساتھ ہے ،افسران کو تنگ نہ کریں ، سندھ میں بیٹھے سیاسی یتیموں کے کہنے پر فیڈریشن کےافسران کو شوکاز جاری ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 50فیصد پیداوار کاحصہ دار ہاری ہوتاہے، گندم کی قیمت 2200روپے فی من مقرر کردی ہے، 2200 روپے فی من قیمت کا فائدہ غریب ہاریوں کو ہوگا‌‌۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے معاملے پر قومی اسمبلی فلور پر غلط بیانی کی گئی، مجھ سے منسوب کرکے کل جوائنٹ سیشن میں غلط بیانی کی گئی ، کچھ ناسمجھ کم عقل لوگ سمجھتے ہیں باربار جھوٹ بول کر حاوی ہوجائیں گے، یہ ناسمجھ لوگ کہتے ہیں کہ وفاق کے افسران کے سندھ حکومت کوروک رکھا ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ افسران کے تبادلے کامعاملہ بھی آج کابینہ میں ڈسکس ہوا، پہلی بات ہے کہ یہ افسران وفاق کے نہیں ہیں، افسران کےمعاملے پر 1954کے قانون کے مطابق صدراور گورنرز کے درمیان معاہدہ ہے، یہ وفاق کے افسران نہیں بلکہ فیڈریشن کے افسران ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی مشاورت پر یقین نہیں کرتے گھر میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں، افسران کے معاملے پر مشاورت کرنا ضروری تھی، مجھ سے وزیراعظم خود بات کریں یا اتھارٹیز مقرر کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا بات جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو اس کا جواب دینا ضروری ہوتاہے، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 4افسران کو نکالا گیا اور4دیئےگئے ، پی ایس پی سے 8افسران نکالے گئے پھر 8افسران دوسرے بھیجے گئے، ہماری کوشش تھی پبلک میں نہ جائیں اور ان سے بات کریں۔

مراد علی شاہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ سےپی ایم ہاؤس تک ہیلی کاپٹرمیں آنےجانےکےعلاوہ کوئی کام خودنہیں کرتے، سارے کام اتھارٹیز کے سپرد کیے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 20 گریڈ کیلئے ہے کہ 60 فیصد افسران فیڈریشن اور 40 فیصد صوبے کے ہوں گے ، صورتحال کے مطابق ابھی تک ہمارے پاس 39افسران کی کمی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خبردار کرتے ہوئے کہا جھگڑا میرے اور سندھ حکومت کیساتھ ہے ،افسران کو تنگ نہ کریں، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لڑنا ہے تو سندھ کابینہ سے لڑیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہاں سے سیاسی لوگ لکھ کر بھیجتے ہیں فلاح افسر ہمیں نہیں چاہیے، روٹیشن پالیسی کا بہانہ بناتے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، آپ لوگ سندھ میں گورننس خراب اور حکومت کمزور کرناچاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح وارننگ دیتاہوں سیاست میں نہ آئیں، صوبے کی گورننس کی پوری ذمہ داری سندھ حکومت کو ہے، فیڈریشن کے افسران کو ٹارگٹ کرکے سندھ حکومت کی گورننس کو کیسے خراب کرسکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں بیٹھے سیاسی یتیموں کے کہنے پر فیڈریشن کےافسران کو شوکاز جاری ہوتے ہیں، صوبے کا کھاتے ،اسی میں بڑے عہدے پربیٹھتے ہیں اوراسی کی برائی کرتے ہیں، یہ ہر چیز بلڈوز کررہے ہیں کیونکہ انھیں اور کچھ نہیں آتا۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ انہوں نےآئینی قوانین کی دھجیاں بکھیردی ہیں، 21گریڈکی کل24پوسٹس ہیں جس میں سے16فیڈریشن نےدینی ہیں، 24میں سے8پوسٹس صوبائی ہیں، عدالت کی طرف سےحکم ہےڈوئل چارجزنہیں دینے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں