کسی کو بے روزگار اور بے گھر ہوتا نہیں دیکھ سکتا: وزیرِ اعلیٰ سندھ -
The news is by your side.

Advertisement

کسی کو بے روزگار اور بے گھر ہوتا نہیں دیکھ سکتا: وزیرِ اعلیٰ سندھ

نئی انکروچمنٹ ہوئی تو ڈی سی، ایس پی، اور ایس ایچ او جواب دہ ہوں گے: مراد علی شاہ

کراچی: وزیرِ اعلیٰ سندھ نے وزیرِ بلدیات سعید غنی، مشیرِاطلاعات مرتضیٰ وہاب، میئر کراچی وسیم اختر اور کمشنر کراچی کو تجاوزات آپریشن کے بعد ری ہیبلیٹیشن پلان بنانے کا حکم جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اینٹی انکروچمنٹ سیل کو آبادیوں کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی انکروچمنٹ ہوئی تو ڈی سی، ایس پی، اور ایس ایچ او جواب دہ ہوں گے۔

وزیرِ اعلیٰ نے پارکوں پر قبضے، فٹ پاتھ اور سڑکوں سے بھی تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کر دی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ جن کے کاروبار متاثر ہوئے ان کے لیے پروجیکٹ بنا کر کابینہ میں پیش کریں، کسی کو بے روزگار اور بے گھر ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پارکوں پر قبضے، فٹ پاتھ اور سڑکوں سے بھی تجاوزات کو ہٹایا جائے، جن کے گھر ہیں ان کو ہٹانا ٹھیک نہیں، جن کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں اُن کا روزگار بحال کرنا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ری ہیبلیٹیشن پلان جلد بنایا جائے، انکروچمنٹ ہٹانے سے متعلق عدالتی فیصلہ حتمی ہے، کراچی سرکلر ریلوے کے روٹ پر بھی انکروچمنٹ ہٹائی جائے گی۔


یہ بھی پڑھیں:  کراچی : تجاوزات کےخلاف آپریشن کا26  واں روز، غیرقانونی تجاوزات مسمار


دریں اثنا وزیرِ بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ انسدادِ تجاوزات مہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر من وعن عمل یقینی بنائیں گے۔

جن کے پاس قانونی لیز ہے ان کے لیے سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی پٹیشن دائر کریں گے۔

مشیرِ اطلاعاتِ سندھ

مشیرِاطلاعات مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ انسدادِ تجاوزات نے سندھ کابینہ کو آپریشن پر بریفنگ دی، سندھ کابینہ نے سپریم کورٹ کے حکم کی تائید کی ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر مقیم لوگوں کے خلاف کارروائی غلط ہوگی، تجاوزات سے متاثرہ کاروباری افراد کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جو ایمپریس مارکیٹ کی بحالی کا کام کرے گی، جو لوگ آپریشن سے متاثر ہو رہے ہیں ان سے بات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے پُر عزم ہے، جن کے پاس قانونی لیز ہے ان کے لیے سپریم کورٹ میں ایک نظرِ ثانی پٹیشن دائر کریں گے، سپریم کورٹ سے اس پر مشورہ لیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں