The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن کے شور شرابہ کے دوران سندھ کا 1714 ارب مالیت کا بجٹ پیش

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کا مالی سال 2022-23 کے لیے 1714 ارب مالیت کا بجٹ پیش کردیا، بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ جاری رہا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کا مالی سال 2022-23 کے لیے 1714 ارب مالیت کا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین نے مسلسل شور شرابہ جاری رکھا اور ایک موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ کا گھیراؤ بھی کرلیا، تاہم وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر جاری رکھی اور شور شرابے سے بچنے کے لیے ہیڈ فون لگالیے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ بجٹ کا مجموعی تخمینہ 1714 ارب روپے ہے، بجٹ میں مسلسل دوسرے سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے، 2016 سے2021 تک وفاقی حکومت کے ملازمین کی طرح ایڈہاک ریلیف الاؤنسز ضم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا اعلان کیا اور کہا کہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کیلئے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن پر عمل کیا جارہا ہے، پنشن میں پانچ فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، تاہم اگر کسی صوبے میں تنخواہ 15 فیصد سے زائد بڑھی تو ہم بھی اسی تناسب سے تنخواہ بڑھا دیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اضافہ، گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کیلئے 30 فیصد اضافہ

گریڈ 5 کے پولیس کانسٹیبل کو اگلے ماہ سے گریڈ 7 میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بجٹ کے خدوخال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طورپر صوبائی سالانہ ترقیاتی بجٹ 362 ارب سے زائد ہے، تعلیم کے لیے 326 ارب، صحت کے لیے 220 ارب کا ہدف مقرر ہے اور کراچی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے صوبائی آمدن کے حوالے سے بتایا کہ این ایف سی شیئر کے 1050 ارب ملیں گے، صوبائی ٹیکسز کا ہدف 374 ارب روپے رکھا گیا ہے، الیکشن کےباعث اشتہارات کا بجٹ 4 ارب روپے سے بڑھا کر 8 ارب رکھا گیا ہے، فیڈرل پی ایس ڈی پی سے 6 ارب سے زائد ملنے کی امید ہے، پروفیشنل ٹیکس، کاٹن فیس اگلے سال ختم کرنے کی تجویز ہے، سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس 180 ارب روپے ہوگا، ایف پی اے 91 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ رسک الاؤنس کے لیے 17.5 ارب  کی تجویز ہے، ادارہ برائے امراض قلب کے لیے 12.5 ارب کی تجویز ہے، پی پی ایچ آئی کے لیے 11.48 ارب، گمبٹ اسپتال کے لیے 6 ارب روپے، کراچی ٹراما سینٹر کیلئے 2.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ ایس آئی یوٹی کی رقم 7 ارب سے بڑھاکر 10 ارب کردی گئی ہے، کراچی اور حیدرآباد کے سرکاری اسپتالوں کو سولر پر منتقل کیا جارہا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ امن وامان کے لیے 132 ارب رکھنے کی تجویز ہے، سندھ پولیس کے لیے 115 ارب رکھنے کی تجویز ہے، توانائی کیلئے 33 ارب، زراعت کے لیے 24 ارب اور آبپاشی کے لیے 36 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، شاہراہوں اور دیگر تعمیرات کے لیے 100 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں غریبوں کے سماجی تحفظ کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، سندھ کے 7 اضلاع  میں یونیورسٹی یا کیمپس قائم کیے جائیں گے، ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے 13 ارب سے زائدرقم مختص کی گئی ہے، واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کیلئے 224 ارب سے زائد، سوشل ویلفیئر کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اپنی بجٹ تقریر کے آغاز میں نواز شریف کو وزیراعظم پاکستان کہہ گئے، انہوں ںے یہ بھی کہا کہ مجھے مسلسل دسویں بار سندھ کا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے اور ہم صوبے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہے ہیں، پیپلز پارٹی قیادت کی پالیسی عوام کے لئے ہے، زراعت کے شعبے پرزیادہ  توجہ دیں گے، ،وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے اپنی حکومت جانے کے بعد تاریخیں بتاتے رہتے ہیں، ماضی کی وفاقی حکومت نے 80 فیصد قرضے لیے، ان کی سازش ناکام ہوگی، پاکستان قائم رہے گا، کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور جب تک پیپلزپارٹی ہے پاکستان کا بچاؤ کرتی رہےگی، پی ٹی آئی والوں نے ساڑھے تین سال حکومت کی اور اس دوران سندھ کے ساتھ جو کرنا تھا وہ کیا، ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک حکومت جمہوری طریقے سے گئی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت کے کارنامے بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی نے 92 چھوٹے ڈیم، ریچارج ڈیم اورڈیلے ایکشن ڈیم بنائے، نگرپارکر اور کوہستان کے علاقوں میں ڈیم بنائے گئے جہاں کارونجھر اور کیرتھر کی پہاڑیوں سے آنے والا بارش کا پانی محفوظ کیا جائے گا اور اس پانی سے تقریباً 2لاکھ 55 ہزار 173 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی، انسانوں اور جانوروں کیلئے پانی بھی فراہم کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کراچی میں 17.8 کلومیٹر کی گرین لائن بی آر ٹی فعال ہے، 4.77 کلومیٹر طویل اورنج لائن ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں، حکومت سندھ نے حال ہی میں پیپلز بس سروس کا اجرا کیا ہے جس کے تحت کراچی کے 7 مختلف روٹس پر 250 بسیں چلائی جائیں گی اور حکومت سندھ نے بسوں کی خریداری پر 6.4 ارب خرچ کیے ہیں جب کہ آئندہ مالی سال میں 4 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ جنہوں نے میری تحمل سے تقریر سنی ان کا شکر گزا رہوں، کوئی فائننس بل نہیں ہے اس لیے ہم بل پیش نہیں کریں گے، ہم یہ بجٹ پاس کرائیں گے اور آئندہ سال عام انتخابات کے بعد پورے ملک میں حکومت قائم کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں