The news is by your side.

وہ عادتیں جو موٹاپے سے چھٹکارے کی کوششیں ناکام بنادیں

موٹاپے کا شکار افراد اپنے وزن میں کمی لانے کے لئے بڑے جتن کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے،ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ آپ کی اپنی چند عادات یا غلطیاں ہوں جو جسمانی وزن میں کمی کی کوششوں کو ناکام بنارہی ہوں۔

تو پریشانی کی کوئی بات نہیں، آج ہم آپ کو چند ایسی عام عادات یا غلطیوں کے بارے میں بتائیں گے جو جسمانی وزن میں کمی کی کوششوں کو ناکام بنادیتی ہیں۔

پانی کی زیادتی

طبی ماہرین متفق ہے کہ زیادہ پانی پینا جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے سے قبل ایک لیٹر پانی پینے سے 12 ہفتوں کے دوران جسمانی وزن میں 44 فیصد کمی آسکتی ہے، اس سے علاوہ زیادہ پانی پینے سے میٹابولزم بہتر ہوتا ہے اور کیلوریز زیادہ تیزی سے جلتی ہیں۔

میٹھے مشروبات کا وافر استعمال

میٹھے مشروبات میں کیلوریز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مگر ہمارا دماغ اس کو سمجھ نہیں پاتا، اس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں کمی لانے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔

پروٹین کا کم استعمال

پروٹین جسمانی وزن میں کمی کے لیے اہم غذائی جز ہے، پروٹین سے بھرپور غذا کا استعمال پیٹ کو زیادہ دیر تک سیر رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور بے وقت بھوک محسوس نہیں ہوتی، اس کے علاوہ پروٹین کے زیادہ استعمال سے میٹابولزم کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے۔

ناشتہ نہ کرنا

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے کو ختم کرنے کے لئے ناشتہ نہ کرنا مضحکہ خیز عمل ہے کیونکہ ناشتہ نہ کرنا جسمانی وزن میں کمی لانے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث بننے والی عادت ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے بھوک زیادہ لگتی ہے جس کا نتیجہ دوپہر یا رات میں زیادہ مقدار میں کھانے کی شکل میں نکلتا ہے۔

صبح جاگنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ناشتہ کرنے کی کوشش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ پروٹین سے بھرپور ہو (جیسے انڈے یا دہی وغیرہ) تاکہ زیادہ وقت تک پیٹ بھرا رہے۔

سونے کے وقت کھانا

رات گئے کھانا کھانے کی عادت جسمانی وزن میں کمی کی کوششوں کو ناکام بنادیتی ہے، نیند کے وقت سے کچھ دیر پہلے کھانا کھانے سے جسمانی درجہ حرارت، بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جس سے چربی کا گھلنا مشکل ہوجاتا ہے، کوشش کریں کہ سونے سے تین گھنٹے قبل کھانا کھالیں۔

بہت زیادہ تناؤ یا فکرمندی

تناؤ یا فکرمند ہونے پر لوگ زیادہ کیلوریز اور چکنائی والی غذاؤں کو ترجیح دینے لگتے ہیں جبکہ تناؤ کے شکار افراد کے پیٹ اور کمر کے اردگرد زیادہ چربی جمع ہونے لگتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں