The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس، انکوائری کمیشن کے قیام اور طریقہ کار پر مشاورت

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں انکوائری کمیشن کے قیام اور طریقۂ کار پر مشاورت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ملکی دولت کیسے لوٹی گئی، اس تحقیقات کے لیے وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیشن کے قیام سے متعلق ٹی او آرز پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر بھی شریک ہوئے، وزیر اعظم نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھی اجلاس میں بلایا، اجلاس میں اعلیٰ سطح انکوائری کمیشن کے قیام اور طریقۂ کار پر مشاورت ہوئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انکوائری کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے گا، کمیشن میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  دس سال میں قرضہ 24 ہزار ارب تک کیسے پہنچا؟ وزیر اعظم کا اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان

یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن میں ایس ای سی پی، آڈیٹر جنرل آفس اور ایف آئی اے کے حکام بھی شامل ہوں گے، یہ کمیشن 10 سالوں میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کرے گا، 2008 سے 2018 تک 24 ہزار ارب کے قرضے کی تحقیقات ہوں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن مختلف وزراتوں میں استعمال کی گئی رقم کی تحقیقات کرے گا، کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ عوام کے پیسے کا غلط استعمال تو نہیں ہوا، غیر ملکی سفر اور بیرون ملک علاج پر آنے والے اخراجات کی بھی تحقیقات ہوں گی۔

اجلاس میں سڑکوں کی تعمیر، کیمپ آفس کے نام پر ذاتی گھروں کی تعمیر کی تحقیقات کا بھی فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ عوامی رقم کا غلط استعمال کرنے والوں سے پیسا واپس لیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں