The news is by your side.

طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضیٰ نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ جواب داخل کرادیا، ٹرانسکرپٹ فراہم نہیں کی گئی، سی ڈی دی گئی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ سب کچھ اندر باہر سے جانتے ہیں، آپ کو میٹیریل کی ضرورت نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ٹرانسکرپٹ موجود ہے آپ کو فراہم کردیا گیا تھا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ دانیال عزیز والے کیس میں سی ڈٖی فراہم کردی گئی ہے، سی ڈی اورفراہم ٹرانسکرپٹ میں فرق نکلا۔

جسٹس اعجا زافضل نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس سی ڈی کی کاپی موجو د ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میں سی ڈی فراہم کردوں گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو صرف آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پروزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضیٰ نے ذاتی وجوہات پرعدالت عظمیٰ سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے 24 فروری کو توہین عدالت کیس میں عبوری تحریری جواب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرایا تھا۔ طلال چوہدری نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ عدالت کی تضحیک نہیں کی، توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، میڈیا نے میرے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا۔

طلال چوہدری نے تحریری جواب میں کہا تھا کہ کبھی دانستہ، غیر دانستہ کوئی عمل نہیں کیا جس سے توہین عدالت ہو۔ انہوں نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ نہیں معلوم کس مواد کی بنیاد پرتوہین عدالت کارروائی شروع ہوئی، تفصیلات دی جائیں تاکہ اس کے مطابق جواب دے سکوں۔

وزیرمملکت برائے داخلہ نے جواب میں کہا تھا کہ آرٹیکل 19 ہرشہری کوآزادی رائے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست ہے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں