site
stats
پاکستان

عدلیہ مخالف بیان ، نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

لاہور : ریلی کے دوران عدلیہ مخالف بیان پر نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکردی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی سپریم کورٹ کیخلاف تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی جہلم میں عدلیہ اور فوج مخالف تقریر کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے وزیر اعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی۔ توہین عدالت کی یہ درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف جی ٹی روڈ ریلی کے دوران خطاب کرکے سپریم کورٹ کے ججز کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں، نواز شریف کی تقاریر سپریم کورٹ پر حملہ اور آئین کے ساتھ بغاوت ہے۔

دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیمرا بھی نواز شریف کے ساتھ ملا ہوا ہے جس کی وجہ سے نواز شریف کی تقاریر میڈیا پر نشر کرنے سے نہیں روکی جا رہی ہیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کیخلاف آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور پیمرا کو بھی حکم دیا جائے کہ نواز شریف کی سپریم کورٹ کیخلاف تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔

درخواست میں نواز شریف، سعد رفیق اور خواجہ آصف سمیت اٹھارہ رہنماؤں کوفریق بنایا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : عوام کے ووٹوں کی حرمت کے لیے باہر نکلا ہوں، جلد ایجنڈا دوں گا، نواز شریف


یاد رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے جہلم میں خطاب کے دوران عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کروڑوں ووٹوں سے منتخب ہوا، 5 ججوں نے یک جنبش قلم مجھے باہر کردیا اب میں منتخب حکومتوں کو کچلنے کے عمل کے خلاف اور عوام کے ووٹوں کی حرمت کے لیے ایک ایجنڈے کا اعلان کروں گا اور اپنی جدو جہد کو مقصد کے حصول تک جاری رکھوں گا۔

انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ووٹ سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو یک جنبش قلم سے فارغ کردیا گیا، کیا یہ عوام کے ووٹوں کی توہین نہیں ہے ؟ کیا آپ لوگ اس پر آواز نہیں اٹھائیں گے؟ کیا آپ کے وزیراعظم نے کوئی غلط کام کیا تھا؟


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top