The news is by your side.

متنازع قانون، بھارت کے طول وعرض میں آگ لگ گئی، 30 ہلاکتیں

نئی دہلی: شہریت کے متنازع قانون نے بھارت کے طول وعرض میں آگ لگا دی، پرتشدد مظاہروں اور پولیس گردی کے نتیجے میں ہلاک افراد کی تعداد 30 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے ہر شہر اور ہر گلی میں متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دلی، ممبئی، چنئی، لکھنو، پٹنہ اور حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں بھارتیوں نے مودی پلان کو مسترد کردیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بوکھلاٹ کا شکار مودی سرکار نے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند کر رکھی ہے۔ جبکہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کہتے ہیں مودی کا کام صرف عوام کو تقسیم کرنا اور نفرت پھیلانا ہے۔

بھارت میں مودی کے نام نہاد جمہوریت کے دعوے کی قلعی کھل گئی، آر ایس ایس کی غنڈہ گردی بھی عروج پر پہنچ گئی، بھارتی پولیس کے ہمراہ مظلوم اور نہتے طالب عملوں کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔

متنازع قانون، بھارت میں تابڑ توڑ گرفتاریاں، مؤرخ گرفتار، موبائل سروس معطل

علی گڑھ یونیورسٹی کے 10ہزار طلبا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، لکھنو میں پولیس افسر نے احتجاج میں شامل مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ بھی دیا۔ بھارتی مسلمانوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم نے بھارت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا اب ہمیں غیر کہا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بھارتی شہر ممبئی میں کانگریس نے احتجاجی ریلی نکالی، اور مودی حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی، اور موجودہ حکومت سے متنازع قانون واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں