The news is by your side.

Advertisement

سانحہ مستونگ کا ایک اورزخمی دم توڑ گیا‘ شہدا کی تعداد 129 ہوگئی

مستونگ : صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کی کارنرمیٹنگ میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں سراج رئیسانی سمیت 129 افراد شہید جبکہ 146 زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی کارنر میٹنگ میں دھماکہ ہوا جس میں سراج رئیسانی سمیت 129 افراد شہید جبکہ 146 افراد زخمی ہوگئے۔

مستونگ دھماکے میں زخمی ہونے والے سو سے زائد افراد کوئٹہ کے سول اسپتال میں زیرعلاج ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔

نگراں وزیر داخلہ بلوچستان آغا عمر بنگلزئی نے تصدیق کی کہ اب تک جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 128 تک پہنچ گئی جبکہ 122 زخمی ہیں جن میں سے متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مستونگ دھماکے کو خودکش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں 16 سے 20 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

سراج رئیسانی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے بھائی ہیں۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے حلقہ پی بی 35 سے صوبائی امیدوار تھے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما کا 14 سالہ بیٹا بھی سنہ 2011 میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہوچکا ہے۔

نگراں وزیر داخلہ بلوچستان آغا عمر بنگلزئی کا کہنا تھا کہ پی پی 35 مستونگ کے امیدوار سراج رئیسانی انتخابی مہم کے سلسلے میں کارنر مٹینگ کے لیے پہنچے تو دھماکا ہوگیا، واقعے کے وقت پنڈال میں 500 کے قریب افراد موجود تھے۔

خیال رہے کہ رواں سال انتخابات کے دوران انتخابی امیدواروں پر کیا جانے والا یہ تیسرا حملہ ہے۔

بنوں میں گزشتہ روز متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اکرم درانی کے قافلے پر بم حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے جبکہ اکرم درانی محفوظ رہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 10 جولائی کو پشاور کے علاقہ یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں اے این پی کے امیدوار ہارون بلور شہید ہوگئے تھے۔ دھماکے میں مزید 21 افراد بھی شہید ہوئے تھے۔


انتخابات ملتوی

الیکشن کمیشن نے پی بی 35 بلوچستان میں انتخاب ملتوی کردیے، اس حلقے میں عام انتخابات کے بعد ضمنی الیکشن ہوں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں