The news is by your side.

Advertisement

ریاضی دانوں کےلیے بڑی خوشخبری

واشنگٹن : امریکی طالبہ نے ریاضی کا 50 سال پرانا مسئلہ چند دنوں میں حل کرکے دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی دیہی ریاست دیہی ریاست ’مین‘ سے تعلق رکھنے والی پی ایچ ڈی کی طالبہ لیزا پکاریلو نے اپنے مقالے پر کام کرتے ہوئے ’کانوے ناٹ یا کانوے گانٹھ‘ کا مسئلہ اپنے فالتو وقت میں حل کرلیا۔

طالبہ نے جب اپنی کامیابی سے متعلق ریاضی کے ماہر پروفیسر کیمرون گورڈن کو بتایا کہ تو وہ زور سے چیخ پڑے اور کہا کہ تمہیں تو بہت خوش ہونا چاہیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مسئلہ سنہ 1970 میں معروف برطانوی ریاضی دان جان ہورٹن کانوے نے پیش کیا تھا جن کا رواں برس جو گزشتہ پچاس سالوں سے حل طلب تھا لیکن اب تک ریاضی کے بڑے بڑے ماہر حل نہیں کرپائے تھے۔

امریکی طالبہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس مسئلے سے متعلق 2018 میں ایک سیمینار کے دوران علم ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق لیزا پکاریلو کا مقالہ اس برس کے اوائل میں اینلز آف میتھمیٹکس نامی جریدے میں شائع ہوا اور اس مسئلہ کا حل نکالنے کے بعد سے ہی ان کا تقرر میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ میتھمیٹیکل ناٹس ریاضی کی ایک مخصوص شاخ کا موضوع ہے جو ٹوپولوجی یا علم مقامات کہلاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ٹوپولوجی اشیا کے ٹوٹے بغیر ان کی شکل بگڑنے، مروڑنے اور تاننے کے بعد ان کے رویے کو جاننے کا علم ہے۔

ناٹ تھیوری یا نظریۂ گانٹھ ٹوپولوجی کی ایک شاخ ہے۔ عام زندگی کے برعکس ریاضی کی گانٹھ کے سرے آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ اس کی سادہ ترین مثال چھلے کی شکل ہے اور اسے کھولا نہیں جا سکتا۔ مگر یہ گرہ اپنے آپ میں تہہ در تہہ ہو کر پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

لیزا پکاریلو نے کانوے ناٹ کی طرز پر جو 11 مقامات پر آر پار ہوتی یا مڑتی ہے، خود ایک گانٹھ بنائی جسے ’جڑواں گرہ‘ کہتے ہیں، اسے سمجھنا قدرے آسان تھا اور اس کا حل ڈھونڈے کے بعد وہ اس کا اطلاق کانوے ناٹ پر کر سکتی تھیں۔

پی ایچ ڈی کی طالبہ کا کہنا تھا کہ میں نے یہ کام فالتو اوقات میں اسی لیے کیا ہے کیونکہ میں اسے اصل ریاضی نہیں سمجھتی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں