The news is by your side.

Advertisement

پانی سے جلنے والا چولہا : حیرت انگیز ایجاد کی ویڈیو دیکھیں

ابوجا : ایک ایسے وقت میں جب گیس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ایک 67 سالہ شخص کی طرف سے  پانی والے چولہے کی ایجاد پر عوام خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

پہلے تو لکڑیوں کی مدد سے آگ جلا کر کھانا بنایا جاتا تھا پھر قدرتی گیس کے ذخائر کا استعمال کر کے گھروں میں کھانا بنایا جانے لگا۔ بعدازاں بجلی کی مدد سے بھی جلنے والے چولہے متعارف کرادیئے گئے تھے۔

لیکن اب یہاں ہم ایک ایسے چولہے کی بات کررہے ہیں جس کے استعمال میں نہ بجلی کا استعمال ہوتا ہے اور نہ ہی گیس کا اور اس کا خرچہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔

جی ہاں ! یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے کہ اب چولہا جلانے کیلئے گیس سلنڈر کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام انتہائی کم خرچ پر پانی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

نائجیریا کے ایک 67 سالہ شخص نے پانی سے جلنے والا چولہا ایجاد کیا ہے جس میں آگ لگانے کے لیے گیس بجلی یا مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہادی عثمان نامی اس شخص نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ چولہا کیسے جلایا جاتا ہے۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ وہ اس سستے چولہے کی عوام تک رسائی کیلئے مالی طور پر تعاون کرے تاکہ مزید پیداوار سے اس کا فائدہ عام شہریوں کو ہوسکے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ضعیف شخص پانی کی ایک بوتل میں اوپر کی جانب سوراخ کرکے ایک پائپ داخل کرتا ہے اور ڈھکن والے حصے سے دوسرا پائپ داخل کرکے ہینڈ پمپ کے ذریعے ہوا بھری اور پائپ کا ایک سرا نوزل میں لگا کر چولہے میں آگ لگالی۔

نائجیرین شخص کے مطابق ان کی ایجاد مٹی کے تیل اور گیس کی بجائے مکمل طور پر ہوا کے دباؤ اور پانی پر انحصار کرتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کی ایجاد کو "عوام کی ایجاد” کا ٹیگ دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے بہت سے لوگوں کو سہولت ملے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں